خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 417 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 417

1942ء 417 خطبات محمود کوشش ایک رات کی ہے اور یہ ایک مہینہ کی یا جیسے رسول کریم صلی علیم نے فرمایا کہ اسے رمضان کے آخری عشرہ میں تلاش کرو۔ یہ دس راتیں بھی مشکل ہیں ، ایک رات تو جاگ لیتے ہیں مگر مسلسل تیس یا دس بھی جاگنا دو بھر ہوتا ہے۔ لیکن حقیقت یہی ہے کہ اسی قوم کے دن زندہ ہوتے ہیں جس کی راتیں زندہ ہوں۔ جو لوگ ذکر الہی کی قدر و قیمت کو نہیں سمجھتے، ان کا مذہب کے ساتھ وابستگی کا دعویٰ محض ایک رسمی چیز ہے۔ کئی نوجوان ایسے ہوتے ہیں جو تبلیغ بڑے جوش سے کرتے ہیں، چندوں میں بھی شوق سے حصہ لیتے ہیں مگر ذکر الہی کے لئے مساجد میں بیٹھنا اور اخلاق کی درستی کے لئے خاموش بیٹھنا ان پر گراں ہوتا ہے اور جو وقت اس طرح گزرے اسے وہ سمجھتے ہیں کہ ضائع گیا۔ اسے تبلیغ پر صرف کرنا چاہئے تھا۔ ایسے لوگ اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ تلوار اور سامان جنگ کے بغیر لڑائی نہیں جیتی جاسکتی۔ جس طرح لڑائی کے لئے اسلحہ اور سامان جنگ کی ضرورت ہے اسی طرح تبلیغ بھی بغیر سامانوں کے نہیں ہو سکتی۔ تبلیغ کے میدان جنگ کے لئے ذکر الہی آرسنل (Arsenal) اور فیکٹری ہے اور جو مبلغ ذکر الہی نہیں کر تا وہ گویا ایک ایسا سپاہی ہے جس کے پاس تلوار ، نیزہ یا کوئی اور اسلحہ نہیں۔ ایسا مبلغ جس چیز کو تلوار یا اپنا ہتھیار سمجھتا ہے۔ وہ کرم خوردہ لکڑی کی کوئی چیز ہے جو اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔ آخر یہ کیا بات ہے کہ وہی دلیل محمد مصطفی صلی علیم دیتے تھے اور وہ دل پر اثر کرتی تھی لیکن وہی دلیل دوسرا پیش کرتا ہے لیکن سننے والا ہنس کر گزر جاتا اور کہتا ہے کہ کیا بے ہودہ باتیں کر رہا ہے۔ یہ فرق کیوں ہے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ اس شخص کے پاس جو ہتھیار ہے وہ لکڑی کا کرم خوردہ ہتھیار ہے مگر محمد صلی علیم کے پاس لوہے کی ایسی تیز تلوار تھی جو ذکر الہی کے کارخانے سے تازہ ہی بن کر نکلی تھی۔ کیا وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کی باتوں میں جو اثر تھا۔ وہ دوسروں کی باتوں میں نہیں۔ ہمارے مبلغوں کی تقریروں میں وہ اثر نہیں اس کی وجہ یہی ہے کہ مبلغ کی تقریر کو ذکر الہی نے تلوار نہیں بنایا ہو تا۔ اس کے ہاتھ میں لکڑی کا کرم خوردہ ہتھیار ہے جسے گھن لگا ہوا ہے۔ لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ہاتھ میں جو تلوار تھی وہ ذکر الہی کے کارخانہ سے نئی نئی بن کر آئی تھی جسے نہ کوئی زنگ لگا تھا، نہ چربی وغیرہ کوئی چیز