خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 410 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 410

* 1942 410 خطبات محمود شادی ہوئی ہو اور وہ اپنی بیوی کو چھوڑ کر اعلاء کلمہ اسلام کے لئے نکل گیا ہو اور پھر اسے واپس آنے کا اس وقت موقع ملا ہو جب اس کی بیوی ادھیڑ عمر کے قریب پہنچ چکی ہو۔اس قسم کی قربانیوں کا موقع اللہ تعالیٰ نے صرف ہماری جماعت کو ہی دیا ہے۔پس نہایت ہی بے شرم وہ لوگ ہیں جو ہماری جماعت پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ ہم تبلیغ نہیں کرتے اور نہایت ہی بے وقوف وہ لوگ ہیں جو اس اعتراض سے ڈر کر اپنے مبلغوں کی قربانیوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جن سے سلسلہ کی عزت ہے۔یہ وہ لوگ ہیں جو حقیقی ایمان کا مظاہرہ کرنے والے ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جن کے متعلق جماعت کا فرض ہے کہ ان کی قدر کرے۔میں یہ نہیں کہتا، آپ لوگوں میں اور ایسے نہیں ہیں۔ممکن ہے آپ لوگوں میں سے بھی سینکڑوں ایسے ہوں جو اسی رنگ میں اپنے ایمان کا مظاہرہ کرنے کے لئے تیار ہوں اور وقت آنے پر وہ ثابت کر دیں کہ وہ بھی اپنے ان بھائیوں سے اخلاص اور قربانی میں کم نہیں مگر اپنے ایمان اور اخلاص کا نمونہ دکھانے کا ان کو موقع ملا ہے، آپ کو نہیں۔اس لئے دنیا کے سامنے آپ کی مثال پیش نہیں کی جاسکتی، انہی لوگوں کی پیش کی جاسکتی ہے۔پس ان ایام میں ان لوگوں کے لئے خصوصیت سے دعائیں کرنی چاہئیں۔اسی طرح احمدیت کی عظمت اور ترقی اور جماعت کے اندر سے ہر قسم کی منافقت کے دور ہونے کے متعلق دعائیں کرنی چاہئیں۔منافق کی مثال ایسی ہی ہوتی ہے جیسے طاعون یا ہیضہ کا کوئی مریض ہوتا ہے بظاہر وہ ایک مریض ہوتا ہے مگر سارے گاؤں کی صفائی کر دیتا ہے۔اس طرح منافق ایک جگہ پیدا ہوتا ہے لیکن اس کا رنگ آہستہ آہستہ دوسروں پر چڑھنا شروع ہو جاتا ہے یہاں تک کہ سینکڑوں منافق بن جاتے ہیں۔ہماری جماعت کے دوستوں کو چاہئے کہ اس قسم کی وباء سے بچنے کے لئے بھی کثرت سے دعائیں کریں۔مسلمانوں کی تباہی کا بہت بڑا سبب یہی ہوا کہ ان میں منافق پیدا ہوئے جنہوں نے ان کی جڑوں کو کھوکھلا کر دیا۔ہم میں بھی منافق ہوئے ہیں، منافق ہیں ، اور منافق ہوں گے۔جس طرح صحابہ میں منافق تھے۔اس لئے ہمیں اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرنی چاہئیں کہ وہ اپنے فضل سے ان کے بد اثرات کو دور کرے۔ان کے زہر کو پھیلنے نہ دے اور جماعت کے دلوں کو ایسا قوی اور مضبوط بنادے کہ کسی منافق کی بات کا ان پر