خطبات محمود (جلد 23) — Page 402
* 1942 402 خطبات محمود نقصان پہنچے گا۔تجارت بہت اعلیٰ چیز ہے مگر یہ ایمان کے نقصان کا موجب ہو جایا کرتی ہے۔صحابہ میں سے بڑے بڑے تاجر تھے مگر وہ دینی خدمات میں بھی بہت بڑھے ہوئے تھے لیکن مجھے افسوس ہے کہ ہماری جماعت کے تاجر زیادہ اچھے نہیں۔زمینداروں اور ملازموں کی نسبت ان کی قربانیاں بہت کم ہوتی ہیں۔لیکن سب ہی ایسے نہیں، بعض تاجروں میں ایسے بھی ہیں کہ جو قربانی میں بہت ہی بڑھے ہوئے ہیں۔مثلاً سیٹھ عبد اللہ الہ دین صاحب ہیں۔وہ دین کی راہ میں اپنے مال کی کوئی قیمت ہی نہیں سمجھتے اور دین کی راہ میں ایسا بے دریغ خرچ کرتے ہیں کہ کئی دفعہ مجھے ڈر پیدا ہوا ہے کہ کہیں وہ اپنا کاروبار تباہ نہ کر لیں مگر اللہ تعالیٰ بھی خود ان کے لئے سامان پیدا کر دیتا ہے۔اسی طرح سیٹھ عبد الرحمان حاجی اللہ رکھا تھے۔انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس قدر مالی خدمت کی کہ اپنی تجارت کو بھی تباہ کر لیا اور آخر میں ان کی مالی حالت بہت کمزور ہو گئی۔اس وقت ان کے بعض دوست ان کی مدد کرتے تھے۔ایک دن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نام ایک غیر احمدی کا منی آرڈر آیا۔جس نے لکھا تھا کہ سیٹھ عبد الرحمان میرے بڑے دوست ہیں۔مجھے ان پر بہت حسن ظنی ہے اور ان کو بزرگ سمجھتا ہوں اور ان کا عقیدت مند ہوں۔ایک روز میں نے ان کو بہت افسردہ دیکھا اور اس کی وجہ دریافت کی تو انہوں نے کہا کہ جب میرے پاس روپیہ تھا تو میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خدمت دین کے لئے بھیجا کرتا تھا مگر اب نہیں بھیج سکتا۔ان کی اس بات کا میری طبیعت پر بڑا اثر ہوا اور میں نے نذر مانی ہے کہ میں آپ کو دو یا تین سو روپیہ ماہوار بھیجا کروں گا۔چنانچہ اس غیر احمدی نے آپ کو روپیہ بھیجنا شروع کر دیا۔ایک دفعہ سیٹھ صاحب کی طرف سے ایک منی آرڈر آیا جو شاید تین یا چار سو کا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دیکھا تو فرمایا یہ منی آرڈر سیٹھ صاحب کا ہے۔ان کی مالی حالت تو بڑی خطر ناک ہے۔بعد میں ان کا خط آیا جس میں لکھا تھا کہ مجھ پر کچھ قرض ہو گیا تھا جسے اتارنے کے لئے میں نے کسی دوست سے کچھ روپیہ لیا۔پھر مجھے خیال آیا کہ کچھ آپ کو بھی بھیج دوں چنانچہ کچھ تو قرض اتار دیا اور کچھ آپ کو بھیج رہا ہوں۔( مجھے یاد نہیں کہ یہ رقم تین سو تھی یا چار سو) پس میں اپنی جماعت کے تاجروں سے کہنا چاہتا ہوں کہ وہ اپنے ایمان کے نام پر بٹہ نہ لگائیں۔عام طور پر ہمارے تاجر اتنی قربانیاں