خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 401 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 401

* 1942 401 خطبات محمود کریں گے جن کو ہم وحی کریں گے۔اللہ تعالیٰ لوگوں کے دلوں میں وحی کرتا تھا اور وہ آپ کے پاس آتے تھے۔مجھے اچھی طرح یاد ہے اس وقت میری عمر پندرہ سال کے قریب تھی، حضرت مسیح موعود علیہ السلام باغ میں رہتے تھے۔ایک دن آپ نے حضرت اماں جان کو بلایا اور فرمایا زلزلہ اور طاعون وغیرہ کی وجہ سے آجکل مہمان یہاں بہت آتے ہیں اور خرچ بہت ہو رہا ہے اور اب پیسے نہیں رہے۔اس لئے میری تجویز ہے کہ اب کچھ قرض لے لیا جائے۔اس کے بعد آپ نماز کے لئے تشریف لائے۔باغ میں جو چھوٹا سا چبوترہ بنا ہے اس کے پاس نماز ہوتی تھی۔وہاں آپ نماز میں شامل ہوئے اور جب واپس گھر گئے تو تھوڑی دیر کے بعد اپنے کمرہ کے اندر سے مسکراتے ہوئے تشریف لائے اور فرمایا کہ نماز سے پہلے میں قرض لینے کی تجویز کر رہا تھا مگر نماز کے وقت ایک ایسے شخص نے جس کے کپڑے بہت میلے کچیلے سے تھے اور جس کے کپڑے پورے بھی نہ تھے اس نے مجھے ایک پوٹلی دی جس کے وزن سے میں نے اندازہ کیا کہ پیسے ہیں مگر میں نے آکر دیکھا تو دو سو سے اوپر رقم اس پوٹلی میں سے نکلی ہے۔تو معلوم نہیں وہ دینے والا کون تھا۔مگر وہ وہی تھا جس کے دل میں اللہ تعالیٰ نے وحی کی۔معلوم نہیں اس نے کن مصیبتوں سے یہ روپیہ جمع کیا ہو گا۔شاید اس نے مکان بنانے کے لئے جمع کیا ہو یا کسی بچے کی شادی کے لئے یا کسی اور غرض کے لئے مگر خدا تعالیٰ کے فرشتے اس کے پاس آئے اور کہا کہ ہم تمہیں ایک بہت ہی نفع مند سودا بتاتے ہیں۔جاؤ اور خدا تعالیٰ کے مسیح کو یہ روپیہ دے آؤ۔چنانچہ وہ دے گیا۔یہ وحی الہی ہے جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی مدد کے لئے خود دوسروں کو تحریکیں کرتا ہے۔پس یہ مت سمجھو کہ ہمارا رزق ہمارے اپنے ہاتھوں میں ہے۔اگر تو کل سے کام لو تو اللہ تعالیٰ ضرور کشائش کر دے گا۔اگر رزق اپنے ہاتھ میں رکھو گے تو اتنا ہی پیدا کر سکو گے جتنا انسانی ہاتھ کر سکتے ہیں اور پھر اپنی زندگی تک ہی کر سکو گے مگر جو لوگ اللہ تعالیٰ کے ہو جاتے ہیں خدا تعالیٰ ان کے لئے بہت زیادہ سامان کر دیتا ہے۔حضرت داؤد نے فرمایا ہے کہ خدا کی قسم میں نے خدا تعالیٰ کے کسی نیک بندے کی سات پشتوں تک کسی کو فاقہ سے مرتے نہیں دیکھا۔پس ہمارے تاجر یہ مت خیال کریں کہ وعظ و نصیحت کرنے سے ان کی تجارتوں کو