خطبات محمود (جلد 23) — Page 38
* 1942 38 خطبات محمود الله سة کئی دن تک یہی حال رہا۔ان میں ایک ہندو نوجوان بھی تھا اور وہ بھی ویسا ہی دہر یہ مزاج تھا جیسے مسلمان۔وہ سارے مل کر اعتراض کرتے رہتے تھے اور میں ان کو جواب دیتا تھا۔ان کے اعتراض بھی کوئی علمی اعتراض نہ ہوتے تھے بلکہ ہنسی مذاق کی قسم کے اعتراضات کرتے تھے بیشتر اعتراض اس قسم کے ہوتے تھے کہ مثلاً جہاز کا سٹیوارڈ (Steward) جو کھانالا تا ہے وہ پانچ چھ پلیٹیں اٹھالا تا ہے اور میں یہ چھوٹا سا تنکا میز پر رکھتا ہوں۔خدا اسے تو یہاں سے اٹھا دے۔اسی قسم کی باتوں کے دوران میں مذہب کے ساتھ ہنسی کرتے کرتے ایک دن اس ہندو نوجوان نے رسول کریم صلی نیلم کی شان کے خلاف کوئی بات کہہ دی۔اس پر وہ سب مسلمان نوجوان طیش میں آگئے اور کہنے لگے کہ ہم رسول کریم صلی ال نیم کے خلاف کوئی بات نہیں سن سکتے حالانکہ وہ خود سارا سارا دن خدا تعالیٰ کا مذاق اڑاتے رہتے تھے۔میں نے ان سے کہا کہ اگر خدا ہی کوئی نہیں تو محمد مصطفی صلی الی یوم تور سول رہتے ہی نہیں۔ان کی تو ساری عمر ہی اس خیال کے پھیلانے میں صرف ہوئی کہ خدا ایک ہے وہ زندہ ہے اور وہی اس دنیا کا سارا کارخانہ چلاتا ہے۔اگر خدا ہی کوئی نہیں اور نہ وہ اس دنیا کے کارخانے کو چلاتا ہے اور یہ سب باتیں غلط ہیں تو پھر یہ تعلیم پھیلانے والا کتنے اعتراض کے نیچے ہے۔مگر انہوں نے کہا کہ ہم دلیل وغیر ہ نہیں جانتے۔ہمیں رسول کریم صلی للی یکم کی ذات سے محبت ہے اور ان کے خلاف ہم کوئی بات نہیں سن سکتے۔یہ بالکل عیسائیوں والی کیفیت ہے وہ بھی خدا تعالیٰ کے خلاف باتیں کر لیتے ہیں مگر حضرت عیسی علیہ السلام کے خلاف کوئی بات برداشت نہیں کر سکتے حتی کہ ان میں سے جو دہر یہ ہیں ان میں سے بھی اکثر خدا تعالیٰ کو تو گالیاں دیتے ہیں مگر حضرت عیسی علیہ السلام کے خلاف کوئی بات نہیں سن سکتے۔میں جب ولایت گیا تو وہاں بعض دوست ایک دہر یہ ڈاکٹر کو میرے ساتھ ملاقات کے لئے لائے۔میں نے ان سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے دل میں مذہب موجود ہے ؟ مگر اس نے کہا کہ نہیں میں کلی طور پر مذہب کو چھوڑ چکا ہوں۔میں نے باتوں باتوں میں بعض وہ اعتراضات جو اناجیل کے رو سے حضرت مسیح علیہ السلام کی زندگی پر پڑتے ہیں بیان کئے تو وہ طیش میں آگئے اور کہنے لگے کہ آپ یسوع مسیح پر اعتراض کیوں کرتے ہیں۔