خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 360 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 360

* 1942 360 خطبات محمود اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ ہم ہندو اکثریت کے ماتحت نہیں رہ سکتے ، ہم پہلے آزادی حاصل کریں گے اور پھر سوچیں گے کہ ہندوؤں کے ساتھ ہمارے کیسے تعلقات ہوں گے۔گویا جو آواز گاندھی جی نے انگریزوں کے مقابلہ میں بلند کی وہی آواز مسلمانوں نے ہندوؤں کے مقابلہ میں بلند کر دی اور جو کیفیت تعلیم یافتہ ہندوؤں کے دلوں میں انگریزوں کے متعلق پیدا ہوئی تھی وہی کیفیت تعلیم یافتہ مسلمانوں کے دلوں میں ہندوؤں کے متعلق پیدا ہو گئی۔ان حالات میں جس وقت بھی جنگ ختم ہو گئی اندرونی فسادات پہلے سے بہت زیادہ ہوں گے کیونکہ چالیس کروڑ آبادی اور بیدار آبادی کو انگریز زیادہ دیر تک اپنے ماتحت نہیں رکھ سکتے۔ہر عظمند سمجھ سکتا ہے کہ انہیں ہندوستانیوں کو آزادی ضرور دینی پڑے گی۔مگر اس کے بعد دو خطر ناک لہریں اٹھیں گی جو ملک میں پھیل جائیں گی۔ایک طرف ہندو اکثریت ہو گی جو برٹش ایمپائر سے اپنے آپ کو الگ کرنے کے درپے ہو گی اور دوسری طرف مسلمانوں کی چیخ ہو گی جو ہندو اکثریت کے مقابلہ میں بلند ہو گی۔ان دو ز بر دست تحریکوں کے نتیجہ میں کوئی یہ خیال بھی نہیں کر سکتا کہ ہندوستان میں امن قائم رہ سکتا ہے۔ہماری آنکھوں کے سامنے اس وقت دو فوجیں تیار ہو رہی ہیں۔ایک فوج اپنے آپ کو برٹش ایمپائر سے نکالنے کے لئے کوشش کرے گی اور ایک فوج ہندو اکثریت کو اپنے اوپر غالب آنے سے روکے گی۔پھر یہ دو فوجیں کسی دو علاقوں میں نہیں کہ انسان سمجھے میں کسی کونے میں جابیٹھوں گا اور اس طرح امن میں رہوں گا بلکہ یہ فوجیں سارے ملک میں پھیلی ہوئی ہیں۔ہر گاؤں میں یہ دونوں فوجیں موجود ہیں، ہر قصبہ میں یہ دونوں فوجیں موجود ہیں، ہر شہر میں یہ دونوں فوجیں موجود ہیں، ہر ضلع میں یہ دونوں فوجیں موجود ہیں، ہر صوبہ میں یہ دونوں فوجیں موجود ہیں۔اس لئے جس وقت یہ لڑائی چھڑے گی، یہ ایک صوبہ کی لڑائی نہیں ہوگی، یہ ایک ضلع کی لڑائی نہیں ہو گی، یہ ایک علاقہ کی لڑائی نہیں ہو گی بلکہ شہر شہر اور گاؤں گاؤں اور گھر گھر کی لڑائی ہو گی۔پس یہ مت خیال کرو کہ بد امنی کی موجودہ رو کو دور کرنے کے لئے میری طرف سے جو اعلان کیا گیا تھا وہ ختم ہو چکا ہے۔وہ اعلان قائم ہے اور قائم رہے گاجب تک اس قسم کی تمام بد امنیوں اور فسادات کا خاتمہ نہیں ہو جاتا۔