خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 350 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 350

$1942 350 (27) خطبات محمود تیاری کا وقت ختم ہو رہا ہے اور کام کا وقت نزدیک آ گیا ہے (فرمودہ 28 اگست 1942ء) تشہد ، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔میں کمر درد کی وجہ سے زیادہ دیر کھڑا نہیں ہو سکتا لیکن چونکہ میں کئی دن قادیان سے باہر رہا اور دو جمعوں کے خطبے یہاں نہیں بیان کر سکا اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ اس تکلیف کے باوجو د جمعہ خود ہی پڑھاؤں۔میں نے پالم پور جانے سے پہلے ایک خطبہ پڑھا تھا جس میں میں نے جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلائی تھی کہ آئندہ بہت بڑے فتن کا دروازہ ہندوستان میں کھلنے والا ہے اور بوجہ ہندوستانی ہونے کے ہمیں اس کے متعلق کچھ نہ کچھ فیصلہ کرنا ہو گا اور چونکہ یہ معاملہ ایسا اہم ہے۔ہے کہ اس کا اثر ہماری جانوں ، ہمارے مالوں، ہماری عزتوں بلکہ ہمارے وطن پر بھی پڑ سکتا ہے اور پڑنے والا ہے اس لئے میں نے جماعت کے دوستوں سے خواہش کی تھی کہ وہ دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے ایسے فیصلہ پر پہنچنے کی توفیق دے جس پر چل کر ہم کامیاب ہو سکیں اور مشکلات سے محفوظ رہیں یا ہمیں کم سے کم مشکلات کا سامنا ہو۔چنانچہ دعاؤں اور غور کرنے کے بعد میں نے اپنے فیصلہ کا اعلان پالم پور سے ہی لکھ کر بھجوا دیا تھا جو “الفضل” 18 اگست 1942ء میں شائع ہو چکا ہے۔اس عرصہ میں جماعتوں کی طرف سے میں یہ تو نہیں کہتا کہ ساری جماعتوں کی طرف سے بلکہ کچھ جماعتوں کی طرف سے میرے پاس ریزولیوشن آئے ہیں جن میں انہوں نے اپنی طرف سے قربانیاں پیش کرنے کا اقرار کیا ہے اور وعدہ کیا ہے کہ وہ ہر آواز پر لبیک کہتی ہوئی اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لئے تیار ہیں اور انہیں جو بھی حکم دیا