خطبات محمود (جلد 23) — Page 340
* 1942 340 خطبات محمود وہ مجھے اس بات کی توفیق دے کہ چند دنوں میں جب میں کوئی فیصلہ کروں کہ ہمیں کانگرس کا مقابلہ کر کے اس فتنہ کو مٹانا چاہئے یا الگ رہ کر اس خدائی فیصلہ کا انتظار کرنا چاہئے تو میر افیصلہ ایسا ہو جس پر چل کر ہم کامیاب ہو سکیں اور مشکلات سے بچ سکیں یا کم سے کم مشکلات کا سامنا ہو اور جو اس کی رضا اور خوشنودی کا رستہ ہو اور جسے اختیار کر کے ہم کلی طور پر یا نسبتی طور پر امن میں رہ سکیں۔پس خوب دعائیں کرو ہر نماز میں کرو، جو ان بھی، بچے بھی اور بوڑھے بھی، عور تیں بھی اور مرد بھی، سب دعائیں کرو کہ اللہ تعالیٰ مجھے صحیح فیصلہ پر پہنچنے کی توفیق دے۔یہ فیصلہ ہمیں چند دنوں میں ہی کرنا ہو گا۔آج آل انڈیا کانگرس کمیٹی کا اجلاس ہو رہا ہے اور وہ فیصلہ کر رہی ہے۔اس کے بعد سنا ہے کہ وہ پندرہ دن کا نوٹس دے گی اور اسی عرصہ کے اندر اندر ہی ہمیں بھی کوئی فیصلہ کرنا پڑے گا۔ممکن ہے اگر ملک میں فساد یا بغاوت پھیلے تو ہم میں سے سینکڑوں اور ہزاروں کو اپنی جانیں دینی پڑیں۔پس میں جماعت کی ماؤں سے کہتا ہوں کہ وہ دن قریب ہیں جب ممکن ہے اسلام اور احمدیت کے لئے ان کے بچے ان سے جدا کئے جائیں اور اگر وہ اس سے بچنا چاہتی ہیں تو ان چند دنوں میں خوب دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے وہ رستہ اختیار کرنے کی توفیق دے دے جو ان کے بچوں کی جانیں بچانے والا ہو یا جس پر چلتے ہوئے کم سے کم جانیں ضائع ہوں اور میں جماعت کے باپوں سے بھی کہتا ہوں کہ گو باپوں کو اولاد سے ماں کی نسبت کم پیار ہوتا ہے مگر ہوتا ان کو بھی بہت ہے۔اس لئے میں ان سے بھی کہتا ہوں کہ وہ دن قریب ہیں کہ جب اس فتنہ کو روکنے کے لئے انہیں اپنی اور اپنی اولادوں کی جانیں قربان کرنی پڑیں۔اس لئے میں سب کو نصیحت کرتا ہوں کہ خوب دعائیں کریں۔اکٹھے ہو ہو کر بھی دعائیں کریں اور اکیلے اکیلے بھی، کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس رستہ کی طرف رہنمائی کر دے جو اس کی رضا اور احمدیت و اسلام کی ترقی میں ممد ہونے والا ہو۔خواہ قریب میں یا بعید میں۔اور میں پھر آپ لوگوں سے کہتا ہوں کہ آپ نے میری بیعت کی ہوئی ہے اور یہ اقرار کیا ہوا ہے کہ نیک احکام میں یعنی جو احکام اسلام اور احمدیت کی تعلیم کے مطابق ہوں، میری اطاعت کریں گے اور اگر میں کوئی ایسا حکم دوں تو نہ اپنی جانوں کی پرواہ کریں گے ، نہ اپنی اولادوں کی