خطبات محمود (جلد 23) — Page 317
1942ء 317 خطبات محمود تحریک شروع ہوئی اور مسلمانوں میں ایسا جوش تھا کہ معلوم ہوتا تھا مسلمان پنجاب کے : پر شہید گنج بنا دیں گے اور یہ نظر آتا تھا کہ پہلے تو شہید گنج نام اس وجہ سے تھا کہ بقول سکھوں کے یہاں بعض سکھوں نے جانیں دے دی تھیں مگر اب مسلمان اسے شہید گنج بنائیں گے اور لاکھوں مسلمانوں کا خون اس کی دیواروں پر چھینٹے دے گا مگر آج دیکھ لو نہ وہ تحریک ہے اور نہ کسی کو وہ یاد ہے۔ سکھ آج بھی اسی طرح اس پر قابض ہیں اور وہ لوگ جو سارے پنجاب میں شور مچارہے تھے ان کا نام و نشان بھی کہیں نظر نہیں آتا۔ اگر مسلمان کسی ایک تحریک کے متعلق بھی استقلال سے کام لیتے تو آج ہندوستان میں ان کی حالت بہت بہتر ہوتی ۔ اگر خلافت کی تحریک کچھ عرصہ کے بعد دب نہ جاتی مگر بڑھتی ہی چلی جاتی تو مسلمانوں کے حق میں نتیجہ مفید نکلتا اور جو لوگ باہر گئے تھے وہ واپس آکر یہاں عزت کی زندگی بسر کرتے۔ اسی طرح شہید گنج کی تحریک خواہ غلط تھی یا ٹھیک۔ اگر مسلمان قربانیاں کرتے جاتے تو آج کسی کو ان کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھنے کی جرات نہ ہوتی۔ یاد رکھو کہ قربانی دل دہلا دینے والا شور نہیں بلکہ استقلال کے ساتھ قربانیاں پیش کرتے جانا اصل چیز ہے۔ یورپ کے لوگ اس بات کو جانتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں اس لئے انہیں عزت اور عروج حاصل ہے۔ صدیاں گزر جاتی ہیں مگر ان کے استقلال میں فرق نہیں آتا۔ افراد کے ساتھ ان کے مقاصد کا تعلق نہیں بلکہ قوم کے ساتھ مقاصد کا تعلق ہوتا ہے۔ صلیبی جنگوں کو دیکھو یورپ کی قومیں پاگلوں کی طرح شام پر حملے کرتی رہیں اور ستر سال تک لڑتی رہیں مگر کامیاب نہ ہو سکیں۔ اس کے بعد مسلمانوں نے تو یہ سمجھ لیا کہ انہوں نے دشمن کو شکست دے دی اور گھروں میں غافل ہو کر سو گئے لیکن اہل یورپ کے دلوں میں سات سو سال تک بھی وہ چنگاری سلگتی رہی اور آخر اس صدی میں انگریزوں نے وہاں قبضہ کر ہی لیا۔ وہی میدان جس میں سلطان صلاح الدین ایوبی نے فرانس کے بادشاہ فلپ اور انگلستان کے بادشاہ رچرڈ کو شکستیں دی تھیں اس پر آج ان کا قبضہ ہے بلکہ سلطان صلاح الدین ایوبی کی قبر پر بھی انہی لوگوں کا قبضہ ہے۔ اگر وہی چنگاری مسلمانوں کے دل میں بھی سلگتی رہتی اور وہ ہمیشہ اس بات کو مد نظر رکھتے کہ ان کے ملک پر قبضہ کرنا اہل یورپ کا منشاء ہے اور ہر مسلمان کے