خطبات محمود (جلد 23) — Page 296
* 1942 296 خطبات محمود اور اس کے آنے کی خوشی میں چالیس دن تک لوگوں کو دعوتیں دیتا رہا۔اس کے بعد اس نے اپنی قوم کے رؤساء کو جمع کیا اور ان سے کہا کہ تم انصاف کے ساتھ میرے تمام مال میں سے آدھا مجھے دے دو اور آدھا میری بہن کو دے دو حالانکہ اس کی بہن اپنا حصہ لے چکی تھی انہوں نے ایسا ہی کیا اور اس کی بہن آدھا مال لے کر واپس آگئی۔سال ڈیڑھ سال تو خاوند نے جوئے اور شراب کی طرف توجہ نہ کی مگر اس کے بعد پھر وہ ہر وقت شراب میں مست رہنے لگا اور جو ا بھی اس نے شروع کر دیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ پھر تمام مال تباہ و برباد ہو گیا۔جب پھر اسے فاقے آنے شروع ہوئے تو چاٹ تو اسے پڑہی چکی تھی اپنی بیوی سے کہنے لگا کہ چلو تمہارے بھائی کے پاس چلیں تم اس سے پھر مدد طلب کرو۔وہ کہنے لگی مجھے تو شرم آتی ہے مگر خیر تم جو کہتے ہو تو میں چلتی ہوں اور میں امید کرتی ہوں کہ میرا بھائی مجھ سے حسن سلوک ہی کرے گا۔چنانچہ وہ پھر اپنے بھائی کے پاس گئی۔اس کے بھائی نے پہلے سے بھی زیادہ اعزاز کے ساتھ اس کا استقبال کیا اور پہلے سے زیادہ اس خوشی میں لوگوں کو چالیس دن تک دعوتیں دیں اور ذرا بھی نہ جتایا کہ ایک دفعہ جو میں تمہیں مدد دے چکا ہوں اب اور مدد کس طرح دوں۔چالیس دن کے بعد اس نے پھر رؤساء سے کہا کہ میر ا جتنا مال ہے وہ انصاف کے ساتھ آدھا آدھا مجھ میں اور میری بہن میں تقسیم کر دیا جائے۔انہوں نے ایسا ہی کیا اور خنساء پھر یہ مال لے کر واپس آگئی۔کچھ عرصہ کے بعد پھر اس کے خاوند نے شراب اور جوئے میں مال کو ضائع کر دیا اور وہ پھر اپنے خاوند کے کہنے پر اسے ساتھ لے کر تیسری دفعہ مدد کے لئے اپنے بھائی کے پاس آئی۔اس کے بھائی نے اور بھی زیادہ عزت کے ساتھ اس کا استقبال کیا اور چالیس دن تک لوگوں کو دعوتیں دیتا رہا اور پھر رؤساء سے کہا کہ میر ا جتنا مال ہے وہ مجھ میں اور میری بہن میں نصف نصف تقسیم کر دیا جائے۔اس کی بیوی کو یہ دیکھ کر سخت غصہ آیا اور اس نے کہا تجھے اپنی اولاد کا ذرا خیال نہیں تو ایک شرابی اور جواری کے لئے اپنی تمام جائداد کو لٹا رہا ہے تجھے اپنا اور اپنی اولاد کا بھی تو خیال رکھنا چاہئے۔جب بیوی نے اس سے لڑناشروع کیا تو وہ کہنے لگا تیرا کیا ہے میں اگر مر گیا تو تو اور خاوند کرلے گی مجھ پر روئے گی تو میری بہن ہی روئے گی اس لئے میں اس کی امداد سے رُک نہیں سکتا چنانچہ اس نے پھر اپنی تمام جائداد کا نصف اپنی بہن کو