خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 295 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 295

* 1942 295 خطبات محمود درجہ کے تھے۔غرض اس رنگ کی انہیں کئی فضیلتیں حاصل تھیں۔ادھر مسلمانوں کا لشکر صرف 15 ہزار تھا اور دشمن کا لشکر ایک لاکھ تھا۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس جنگ کی خبریں سن کر جلدی سے ایک آدمی شام کی طرف بھیجوا دیا کہ وہاں جس لشکر کو روانہ کیا گیا ہے اس کا ایک حصہ ایران بھیج دیا جائے مگر وہاں سے بھی صرف 3 ہزار کے قریب سپاہی مل سکے۔غرض مسلمانوں اور ایرانیوں میں شدید جنگ ہوئی اور متواتر دو دن تک ہوتی رہی تیسرے دن جنگ کا پہلو ایسا رنگ اختیار کر گیا کہ مسلمانوں نے سمجھ لیا اگر آج ہمیں فتح حاصل نہ ہوئی تو دشمن اپنی پوری طاقت سے مدینہ کی طرف بڑھنا شروع کر دے گا چنانچہ رات کو بڑے بڑے مسلمان بہادر اکٹھے ہوئے اور انہوں نے قسمیں کھائیں کہ ہم مر جائیں گے مگر دشمن کو مدینہ کی طرف بڑھنے نہیں دیں گے۔اسی طرح بعضوں نے قسمیں کھائیں کہ ہم صرف ہاتھیوں کا مقابلہ کریں گے اور یا انہیں مار دیں گے یا خود مر جائیں گے۔چنانچہ ایک پارٹی نے اقرار کیا کہ ہم صرف ہاتھیوں کا مقابلہ کریں گے ، ایک مر جائے گا تو دوسرا اس کی جگہ لے لے گا، دوسرا مر جائے گا تو تیسرا اس کی جگہ لے لے گا۔غرض اس رات کئی بہادروں کی پارٹیاں بنیں اور وہ آپس میں جنگ کے متعلق مشورے کرتے رہے اور قسمیں کھا کھا کر اقرار کرتے رہے کہ ہم مر جائیں گے مگر دشمن کو آگے بڑھنے نہیں دیں گے۔عین اسی وقت جہاں اور مسلمان بہادروں کی پارٹیاں اپنی اپنی مجالس میں اسلام کی برتری اور اس کی فوقیت کے لئے اپنی جانیں قربان کرنے کا اقرار کر رہی تھیں وہاں ایک مجلس خنساء کے گھر میں بھی ہو رہی تھی۔خنساء ایک بیوہ عورت تھی جس کی زندگی نہایت ہی تلخی میں گزری تھی۔اس کا خاوند بہت بڑا شرابی اور جوئے باز تھا اور گو اس کے پاس بہت بڑی جائداد تھی مگر رفتہ رفتہ اس نے تمام جائداد جوئے اور شراب میں لٹا دی۔جب اس کے حالات بہت خراب ہو گئے اور کھانے پینے کے لئے اس کے پاس کوئی پیسہ نہ رہا تو اس کی بیوی خنساء نے اس سے کہا چلو میں تمہیں اپنے بھائی کے پاس لے چلتی ہوں اور اس سے کچھ روپیہ مانگ کر لاتی ہوں مگر شرط یہ ہے کہ تم ان برے کاموں سے تو بہ کرو اور اقرار کرو کہ آئندہ شراب اور جوئے کے قریب نہیں جاؤ گے۔اس نے اقرار کیا اور وہ اسے اپنے بھائی کے پاس لے گئی۔بھائی نے اپنی بہن کو دیکھ کر اس کا بڑا احترام کیا