خطبات محمود (جلد 23) — Page 28
* 1942 28 خطبات محمود موٹی موٹی مثالیں بیان فرمائی ہیں۔قرآن کریم میں ہر قسم کی مثالیں موجود ہیں۔جیسے یہ مثال ہے جس میں یہ بتایا ہے کہ انبیاء کے زمانہ کی مثال ایسے پانی کی طرح ہوتی ہے جو بادلوں سے برستا ہے اس کے ساتھ اندھیرے بھی ہوتے ہیں، کڑک بھی ہوتی ہے ، بجلیاں بھی ہوتی ہیں مگر پھر بھی لوگ اس کے لئے دعائیں کرتے ہیں اور اس کے فوائد کے مقابلہ میں اس کی تکالیف کی کوئی پرواہ نہیں کرتے۔اگر خدا تعالیٰ کی طرف سے اعلان ہو جاتا کہ اگر ہر زمیندار دس دفعہ پھلے تو پھر بارش ہو گی تو دیکھو کس طرح زمیندار ہیں ہیں دفعہ پھسلتے یا اگر خدا تعالیٰ یہ قانون بنادیتا کہ ہر بارش کے ساتھ ہیں دفعہ کڑک پیدا ہو گی تو زمیندار کہتے کہ خدایا تیں دفعہ کڑک پیدا ہو مگر بارش ہو جائے۔تو ان باتوں کی بارش کے فوائد کے مقابلہ میں انسان کیا پرواہ کرتا ہے۔آخر ہر انسان نے ایک روز مرنا ہے اور خدا تعالیٰ سے ہر ایک کا واسطہ پڑنا ہے۔مضبوط سے مضبوط پہلوان بھی مرتے ہیں اور جہاں جا کر انسان نے فصل کاٹنی ہے وہاں اگر غلہ نکلا ہوا ہو تو یہ تکالیف کیا حقیقت رکھتی ہیں۔جب موت سامنے نہ ہو تو انسان پروا نہیں کرتا مگر جب وہ قریب ہو تو چاہتا ہے کہ اگر ایک گھنٹے کی بھی مہلت مل جائے تو میں ساری تلافیاں کر دوں۔مگر اس وقت اس ارادہ کا کیا فائدہ یہ تو اسی وقت فائدہ دے سکتا ہے جب قربانی کرنے کا موقع اور وقت ہو۔اب دیکھو اگر اس وقت بارش نہ ہوتی اور دو تین ماہ بعد مثلاً اپریل میں ہوتی تو اس وقت زمیندار یہی دعا کرتے کہ خدایا اب بارش نہ ہو کیونکہ اس وقت بارش ہو تو باقی غلہ بھی خراب ہو جاتا ہے۔تو انبیاء کی بعثت کے ساتھ جو تکالیف ہوتی ہیں مومن کو دلیری سے ان کا مقابلہ کرنا چاہئے۔جب وہ ایک دفعہ دین کو سچا سمجھ کر قبول کرتا ہے تو پھر خواہ اسے کتنی تکالیف آئیں، خواہ اس کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں، ہاتھ کاٹ دیئے جائیں ، پاؤں کاٹ دیئے جائیں اسے ہر گز کمزوری نہ دکھانی چاہئے اور دین کے ساتھ اس طرح چمٹے رہنا چاہئے جس طرح چیونٹا جسے پنجابی میں کاڈا ” کہتے ہیں چمٹ جاتا ہے تو پھر چھوڑتا نہیں۔مجھے اپنا بچپن کا ایک واقعہ یاد ہے میاں جان محمد صاحب کشمیری اسی مسجد کے امام تھے۔ہمارے دادا صاحب نے انہیں مقرر کیا تھا۔وہ ہمارے گھر کا کام کاج بھی کرتے تھے۔ایک دن کوئی دوست مچھلی تحفہ کے طور پر لائے۔ہماری ڈیوڑھی کے آگے ایک تخت پوش بچھا