خطبات محمود (جلد 23) — Page 29
خطبات محمود 29 * 1942 رہتا تھا۔وہ اس پر بیٹھ کر مچھلی صاف کرنے لگے اور ہم چار پانچ بچے تماشہ دیکھنے کے لئے پاس بیٹھ گئے۔میرے ہاتھ میں ایک پیڑا تھا جو میں کھا رہا تھا۔مچھلی کے خیال میں شاید میر اہاتھ تخت رلگ گیا اور ایک چیونٹا پیڑے پر چڑھ گیا۔میں جب اسے کھانے لگا تو اس نے ہونٹ پر کاٹ لیا۔اسے بہتیر ا کھینچا اور چھڑانے کی کوشش کی مگر اس نے نہ چھوڑا۔آخر اسے میاں جان محمد صاحب نے چھری سے کاٹ دیا۔یہی حال مومن کا ہونا چاہئے۔یا تو وہ دین کو اختیار ہی نہ کرے اور اگر کرے تو پھر اس کے ساتھ اس طرح چمٹ جائے جس طرح چیونٹا چمٹ جاتا ہے۔اور پھر چاہے اسے کاٹ ڈالا جائے چھوڑتا نہیں۔اگر وہ مارا بھی جائے تو کوئی ہرج کی بات نہیں۔ایمان کی فصل تو مرنے کے بعد ہی کٹتی ہے۔پس اگر وہ مر بھی جائے گا تو اتناہی فرق پڑے گا کہ لوگوں کی فصل اگر مئی میں کٹتی تو اس کی فروری میں کٹ جائے گی اور اس کے دانے پہلے گھر آجائیں گے۔پس مومن کو چاہئے کہ پہلے تو صداقت کو سوچ سمجھ کر مانے اور جب مان لے تو پھر چھوڑے نہیں اور اس کی راہ میں جو تکالیف آئیں ان کی کوئی پرواہ نہ کرے۔“ (الفضل 24، جنوری 1942ء) 1: البقرة: 20