خطبات محمود (جلد 23) — Page 272
1942ء 272 خطبات محمود طاقت ہی نہیں اور وہ بدی کر ہی نہیں سکتے۔ فرشتوں کی زندگی جبر کی ہے اور وہ نیک ہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے جو مخلوق جبر کے قانون کے ماتحت بنائی ہے وہ نیک ہی ہے۔ پس اسلام اس طرح جبر کو تسلیم نہیں کرتا مگر مقدرت کو بھی اس رنگ میں نہیں مانتا کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے مقدرت دے دی ہے۔ اب خدا تعالیٰ کا اس میں کوئی دخل نہیں۔ جیسا نیچریوں کا عقیدہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے انسان کو بنا دیا ہے اور اب وہ خالی ہو کر تماشہ دیکھ رہا ہے۔ اسلام یہ بتاتا ہے کہ ایک حد تک جبر بھی چلتا ہے اور ایک حد تک تقدیر بھی چلتی ہے۔ خدا تعالیٰ نے ایک حد تک انسان کو آزاد بھی بنایا ہے، کھانا پینا، روشنی، نظارے، ہوا کے استعمال میں آزاد ہے۔ اس کے اختیار میں ہے کہ صاف پانی پئے اور اچھی ہوا میں رہے، روشنی میں رہے ، عمدہ غذا کھائے اور اپنی صحت کو اچھا رکھے۔ مگر اس کے باوجود پھر تقدیر کا بھی دخل ہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ انسان اچھی غذا کھالے تو اس کی صحت درست رہے گی مگر یہ نہیں کہ اگر وہ اچھی غذا کھائے تو بہر حال اس کی صحت درست ہی رہے گی یا اگر انسان کی صحت اس کی کسی غلطی کی وجہ سے خراب ہوئی ہے تو بہر حال خراب ہی رہے گی۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ دخل دے اور جب اس کی صحت اچھی رہنی چاہئے وہ خراب ہو جائے یا جب انسان سے کوئی ایسی غلطی ہو گئی ہو کہ جس کے نتیجہ میں اس کی صحت خراب ہو جانی چاہئے خدا تعالیٰ دخل دے اور وہ خراب نہ ہو ۔ اور جب اس کی صحت اچھی رہنی چاہئے وہ اچھی نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے دعا پر زور دیا ہے۔ اگر انسان كلية آزاد تھا تو پھر دعا کے کیا معنی ہیں۔ اگر کلی طور پر اس کی صحت کا انحصار اچھی غذا پر ہے۔ اور اگر لاز ما بد پرہیزی کے نتیجہ میں بیماری ہے تو دعا بے فائدہ ہے۔ پھر تو صرف علاج کا کام باقی رہ جاتا ہے ، دعا کا نہیں۔ دعا کے معنی تو یہ ہیں کہ باوجود پورے طور پر بیماری کے سامانوں کے اللہ تعالیٰ چاہے تو صحت بھی دے سکتا ہے۔ اس کی ایک موٹی مثال حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیش گوئی میں ملتی ہے۔ آپ کی پیشگوئی کے ماتحت طاعون پھیلی۔ اب عام قاعدہ تو یہی ہے کہ طاعون کے کیڑے جس کے پاس جائیں وہ بیمار ہو جائے۔ طاعون قادیان میں بھی آئی مگر خدا تعالیٰ نے فرمایا۔ آپ کے گھر میں طاعون نہ آسکے گی ۔ وہ کیڑے آپ کے مکان کے دائیں بھی