خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 271 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 271

* 1942 271 خطبات محمود وجہ یہ ہے کہ لوہا مقابلہ کرتا ہے اور لکڑی وہڈی مقابلہ نہیں کرتی۔باوجود اس کے کہ انسان پر اس کے ماحول اور ارد گرد کے حالات کا اثر پڑتا ہے اس کے اندر ایسا مادہ موجود ہے کہ اگر وہ ارادہ کرلے تو بیرونی اثرات کا مقابلہ کر سکتا ہے اور عادتوں کو چھوڑ سکتا ہے یا اختیار کر سکتا ہے۔بہر حال جس حد تک انسان آزاد ہے اس حد تک وہ ویسا ہی نیکی میں بھی بڑھ سکتا ہے جیسا بدی میں اور یہ اس کے اختیار میں ہے کہ اس حد تک وہ نیکی یا بدی میں بڑھ جائے یا نہ بڑھے۔دونوں قسم کے لوگ فلسفیوں میں بھی ہیں اور خدا پرستوں میں بھی۔دنیا کے مذاہب بھی ان دونوں قسم کے خیالات کو بیان کرتے ہیں۔مسلمانوں میں بھی جبری اور قدری دونوں قسم کے لوگ ہیں۔جبریوں کا عقیدہ ہے کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے مجبور بنایا ہے اور قدری کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے انسان کو مقدرت عطا کی ہے۔چاہے تو نیکی کی طرف چلا جائے اور چاہے بدی کی طرف۔بے شک اللہ تعالیٰ نے موت و حیات بنائی ہے مگر موت سے بچنے اور حیات کو حاصل کرنے کے قواعد بھی بنادیئے ہیں اگر وہ یہ قواعد نہ بناتا تو پھر علاج بھی پیدا نہ کرتا، غذا بھی نہ بناتا۔اگر ایک انسان نے بہر حال سو پچاس یا بیس سال زندہ رہنا تھا تو خدا تعالیٰ نے غذا کیوں پیدا کی۔غذا اور علاج پیدا کرنے کے یہ معنی ہیں کہ صحت اور بیماری اور موت وحیات میں انسان کا دخل ہے۔اگر موت ضروری تھی اور مقررہ وقت پر اس کا آنالازمی تھا تو غذا کی کیا ضرورت تھی۔غذا پیدا کرنا اور علاج وغیرہ بنانے کے یہ معنی ہیں کہ انسان اپنی صحت کو اچھا بھی بنا سکتا ہے اور خراب بھی کر سکتا ہے۔موت کو قریب بھی لا سکتا ہے اور دور بھی کر سکتا ہے۔تمام مذاہب میں کچھ لوگ جبری ہیں کچھ قدری۔تناسخ کو ماننے والے سب جبری ہیں جو کہتے ہیں کہ گزشتہ جون میں جو کچھ ہو چکا وہ بدل نہیں سکتا۔اسلام کی تعلیم کو اگر غور سے دیکھا جائے تو وہ نہ جبر کا قائل ہے اور نہ قدر کا۔اسلام یہ نہیں کہتا کہ خدا تعالیٰ نے انسان کو مجبور بنایا ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر انسان کو مجبور بنایا جاتا تو ہم اسے نیک بناتے۔ہم منبع ہیں تمام نیکیوں کے۔پس اگر ہم نے جبر کرنا ہو تا تو یہ جبر اپنی صفت کے مطابق کرتے اور انسان کو نیک بناتے اور جو مخلوق جبر کے ماتحت بنائی ہے وہ نیکی پر ہی بنائی گئی ہے۔فرشتے جبر کے ماتحت ہیں اور اس لئے ان میں بدی کرنے کی