خطبات محمود (جلد 23) — Page 259
$1942 259 خطبات محمود جائے گا کہ وہ خلافت کے احکام کو مانے، نہ یہ کہ اس کے حکموں پر اعتراض کرے اور کہے کہ جب تک میری سمجھ میں کوئی بات نہیں آئے گی، میں عمل نہیں کروں گا۔پس عقل ہمیشہ ایک حد تک چلتی ہے اگر ہمیشہ کے لئے عقل کو کھلا چھوڑ دیا جائے تو کام بالکل بند ہو جائیں۔میں ایک دفعہ دھر مسالہ سے آ رہا تھا۔ان دنوں انفلوئنزا کے حملہ کی وجہ سے میر ادل بار بار کمزور ہو جاتا تھا۔ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب میرے ساتھ تھے۔اتفاقاً راہ میں بھی تکلیف ہو گئی۔وہیں قریب ہی بڑا ہسپتال تھا۔ضلع کے سول سرجن اس وقت ایک مسلمان تھے۔ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب ہسپتال میں کوئی دوائی لینے کے لئے گئے تھوڑی دیر کے بعد وہ واپس آئے اور کہنے لگے۔سول سر جن صاحب کہتے ہیں آپ کی بڑی مہربانی ہو گی اگر آپ تھوڑی دیر کے لئے یہاں تشریف لے آئیں چنانچہ میں ان کے پاس گیا۔وہ بڑی محبت سے پیش آئے اور کہنے لگے مجھے آپ کی ملاقات کا عرصہ سے اشتیاق تھا۔اب جو پتہ لگا کہ آپ آئے ہوئے ہیں تو میں نے مناسب سمجھا کہ آپ کی ملاقات کرلوں۔پھر کہنے لگے میں نے ڈاکٹر صاحب کو آپ کے لئے نسخہ بتا دیا ہے اور اس میں صرف تین چیزیں پڑتی ہیں۔نکس وامیکا، سوڈا بائیکارب اور ایک اور دوا بتائی جو اس وقت مجھے یاد نہیں رہی۔پھر تھوڑی دیر کے بعد کہنے لگے یہ نسخہ جو ہے اس کے متعلق میرا بیس سالہ تجربہ یہ ہے کہ نکس وامیکا اگر اتنے ہی قطرے ڈالیں جتنے میں نے لکھے ہیں، اسی طرح سوڈا بائی کا رب اتنے گرین ہی ڈالیں جتنے میں نے لکھے ہیں، اسی طرح تیسری دوائی بھی جس مقدار میں میں نے لکھی ہے اسی مقدار میں ملائی جائے تب تو یقینی فائدہ ہوتا ہے۔لیکن اگر ذرا بھی ان میں کمی بیشی کر دی جائے تو فائدہ نہیں ہوتا۔اگر آپ مجھ سے پوچھیں کہ کیوں ! تو میں اس کا کوئی جواب نہیں دے سکتا مگر میرا بیس سالہ تجربہ یہی ہے کہ اس نسخہ میں تبدیلی کرنے سے فائدہ نہیں ہوتا۔فائدہ اسی صورت میں ہوتا ہے جب دوائیں مقررہ اوزان میں ڈالی جائیں۔تو بیسیوں چیزیں دنیا میں ایسی ہوتی ہیں جن کی بنیاد تجربہ پر ہوتی ہے اور بیسیوں چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن کی بنیاد عقل پر ہوتی ہے۔مگر عقل میں بھی اختلاف ہوتا ہے۔اگر ہر شخص کی بات مانی جائے تو دنیا میں کبھی کوئی کام ہو ہی نہ سکے۔فرض کرو لڑائی ہو رہی ہو اور دشمن شمال