خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 250 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 250

* 1942 250 خطبات محمود رستہ میں سے چھپڑ کا پانی ملا کر لے آتا مگر ایک دن پانی کے ساتھ مچھلی بھی آگئی اور دودھ ڈالنے لگا تو وہ نکل آئی جس سے اس کا راز کھل گیا۔غرض یہ نقائص در حقیقت اسی طرح دور ہو سکتے ہیں کہ خود گھر میں گائیں بھینسیں رکھی جائیں۔اگر قادیان میں سویاد و سو گھر ایسے نکل آئیں جو بھینس رکھ لیں تو انہیں بھی دودھ کی سہولت ہو جائے گی اور ان کی وجہ سے باقیوں کو بھی آسانی سے دودھ میسر آنے لگ جائے گا۔صدر انجمن احمدیہ کے جو کارکن ہیں۔انہیں پراویڈنٹ فنڈ سے قرضہ دلا دیا جائے گا اور اگر ان کا پراویڈنٹ فنڈ نہ ہوا تو ضمانت پر انجمن سے قرضہ دلا دیا جائے گا اور دس بارہ مہینوں کے اندر اندر واپس لے لیا جائے گا۔اس طرح دودھ کی دقت اِنْشَاءَ اللهُ تَعَالٰی دور ہو جائے گی۔اسی طرح چارے وغیرہ کے متعلق انتظام کرنا چاہئے تاکہ چارے کی دقت بھی محسوس نہ ہو مثلاً میرے نزدیک اگر بورڈنگ والے ہو شیاری سے کام لیں تو سکول کی گراؤنڈز میں ہی کافی چارہ بویا جا سکتا ہے مگر بالعموم دیکھا گیا ہے کہ انتظام ٹھیک ہو تبھی چیز سستی ملتی ہے ور نہ انتظام کی خرابی کی وجہ سے گراں ہو جاتی ہے۔پس ضرورت ہے کہ اس طرح محنت سے کام کیا جائے جیسے زمیندار کرتے ہیں جس طرح وہ اپنی بھینسوں کی حفاظت کرتے اور چارہ اور دودھ کو ضائع نہیں کرتے اسی طرح ہمارے دوستوں کو کام کرنا چاہئے۔اگر اس طرح کام کیا جائے تو بورڈنگ کے لڑکوں کو اچھا دودھ مل سکتا ہے اور ان کی صحتیں بھی درست رہ سکتی ہیں۔میں سمجھتا ہوں آٹھ دس گھماؤں زمین ایسی نکل سکتی ہے جس میں چارہ بویا جاسکتا ہے اور چھ سات بھینسیں ایسی رکھی جاسکتی ہیں جن سے طلباء کی ضرورتیں پوری ہوتی رہیں۔اس کے لئے میں ایک کمیٹی تجویز کر دوں گا جو دودھ کی ضرورتیں پوری کرنے کے لئے غور کرے گی اور کوشش کرے گی کہ لوگوں کو ستادودھ میسر آسکے۔اسی طرح اس کمیٹی کا یہ بھی کام ہو گا کہ لوگوں کو یہ تحریک کرے کہ وہ گھروں میں بھینسیں رکھیں تا قادیان کی یہ دقت دور ہو جائے۔(3) تیسری چیز جس کی طرف میں جماعت کو توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ