خطبات محمود (جلد 23) — Page 244
1942ء 244 خطبات محمود کے قریب ہے۔ دو تین سو من اتفاقی ضرورتوں کے لئے بھی جمع رکھنا ضروری ہوتا ہے اور چونکہ ابھی باہر سے آہستہ آہستہ وعدے آ رہے ہیں اور لوگوں کی طرف سے رقوم بھی پہنچ رہی ہیں اس لئے یہ کوئی بعید بات نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہماری یہ ضرورت بھی پوری ہو جائے مگر اس بارے میں میں ان کو جنہیں غلہ دیا گیا ہے نصیحت کرنا چاہتا ہوں کہ ہم نے ان کے لئے پانچ پانچ مہینے کے غلے کا انتظام کر دیا ہے۔ گویا جو غلہ انہیں اس وقت دیا گیا ہے یہ آئندہ دسمبر ، جنوری، فروری مارچ اور اپریل کے لئے ہے۔ مئی میں چونکہ نئی فصل شروع ہو جاتی ہے اس لئے مئی کے لئے کسی انتظام کی ضرورت نہیں۔ ہم غلہ کی اتنی مقدار اپنے پاس جمع نہیں رکھ سکتے تھے کیونکہ اس صورت میں بہت سے غلہ کے ضائع ہونے کا خطرہ تھا اس لئے وہ غلہ ہم نے آج ہی تقسیم کر دیا ہے۔ یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ سب کو تقسیم کر دیا گیا ہے بلکہ تقسیم کرنا شروع کر دیا گیا ہے کیونکہ ابھی تک پورا غلہ نہ ملنے کی وجہ سے سب کو غلہ نہیں پہنچایا جا سکا۔ اس وقت تک ہم ساڑھے چھ سو من گندم خرید سکے ہیں اور اس میں سے پونے پانچ سو یا پانچ سو من کے قریب تقسیم بھی کر چکے ہیں اور ہمارا ارادہ یہ ہے کہ جوں جوں غلہ آتا جائے گا اسے فوراً تقسیم کرتے چلے جائیں گے ۔ پس ایک تو وہ دوست جنہیں ابھی غلہ نہیں پہنچا گھبرائیں نہیں۔ بعض لوگ مجھے رقعے لکھتے رہتے ہیں کہ باقیوں کو تو غلہ مل گیا ہے مگر ہمیں نہیں ملا۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ ہمیں غلہ ابھی تک ملا نہیں۔ ہمارے پاس اس وقت سات آٹھ سو من غلہ خریدنے کے لئے روپیہ موجود ہے مگر غلہ ملتا ہی نہیں۔ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ ارد گرد کے دیہات سے غلہ جمع کریں اور اگر ارد گرد کے دیہات سے غلہ نہ ملا تو خواہ ہمیں گراں ہی خریدنا پڑا بٹالہ یا امرت سر سے خرید کر لایا جائے گا۔ پس جن لوگوں کے لئے غلہ کی منظوری ہو چکی ہے وہ تسلی رکھیں۔ جوں جوں غلہ آتا جائے گا اِنْشَاءَ اللهُ تَعَالٰی ان کے گھروں میں پہنچتا جائے گا۔ ہماری کوشش یہی ہے کہ جہاں تک ہو سکے اچھا غلہ ملے۔ میں خود نمونہ دیکھ کر اسے پاس کر تا ہوں اور حتی الوسع کوشش کرتا ہوں کہ کنگنی نہ ہو اور نہ گندم میں کوئی اور نقص ہو چنانچہ خدا تعالیٰ کے فضل سے جن لوگوں نے خود دیکھ کر اور روپیہ دے کر اپنے گھروں کے لئے گندم خریدی ہے ہماری خریدی ہوئی گندم ان کے برابر بلکہ بعض صورتوں میں ان سے بھی