خطبات محمود (جلد 23) — Page 239
1942ء 239 خطبات محمود ان مقدس مقامات کی حفاظت فرما اور ان لوگوں کی اولادوں کو جو آ کو جو آنحضرت صلی الم کے لئے جانیں فدا کر گئے اور ان کے ملک کو ان خطرناک نتائج جنگ سے جو دوسرے مقامات پر پیش آرہے ہیں بچالے اور اسلام کے نام لیواؤں کو خواہ وہ کیسی ہی گندی حالت میں ہیں اور خواہ ہم سے ان کے کتنے اختلافات ہیں۔ ان کی حفاظت فرما اور اندرونی و بیرونی خطرات سے محفوظ رکھ۔ جو کام آج ہم اپنے ہاتھوں سے نہیں کر سکتے۔ وہ خدا تعالیٰ کا ہاتھ کر دے اور ہمارے دل کا دکھ ہمارے ہاتھوں کی قربانیوں کا قائم مقام ہو جائے۔ پھر یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ عرب سے قریباً دو سو میل کے فاصلہ پر ہندوستان کا علاقہ شروع ہو جاتا ہے۔ عربوں کے پاس گو اور سامان تو نہیں مگر تلوار تو ہے لیکن ہم ہندوستانیوں کے پاس تو تلوار بھی نہیں۔ پھر 11 لاکھ کا نکلنا تو معمولی بات ہے مگر جب وہ بھی نہ نکل سکے تو ہم 33 کروڑ باشندے کہاں جائیں گے۔ ان کو تو چلنے کے لئے راستے بھی نہیں مل سکتے اور اگر خطرہ پیش آ جائے تو سونے کے لئے بھی جگہ نہیں مل سکے گی۔ دنیا میں جہاں کثرت آبادی رحمت سمجھی جاتی ہے وہاں ایسے مواقع پر وہ زحمت بھی ہو جاتی ہے پھر چند سو یا ہزار نکلنے والے ہوں تو ان کے لئے کھانے کا بھی کوئی انتظام ہو سکتا ہے مگر کروڑوں کے لئے کون انتظام کر سکتا ہے۔ پس اپنے ملک کی حفاظت اور اس کی حالت کو بھی مد نظر رکھو اور اس کے لئے بھی دعائیں کرو۔ گو یہ ادنی چیز ہے۔ سب سے مقدم ہمارے لئے مقدس مقامات ہیں اور ملکی حفاظت کا سوال ان کی حفاظت کے سوال کے بعد ہے اور ان کی حفاظت کے لئے ہمارے دل میں درد اور تڑپ ملک کی حفاظت کے لئے درد اور تڑپ سے بہت زیادہ ہے۔ ہندو ہمیشہ اعتراض کرتے ہیں کہ مسلمانوں کا دل تو عرب میں اٹکا ہوا ہے مگر ایسا اعتراض کرنے والے نادان ہیں اور وہ نہیں جانتے کہ اصل انسان وہ ہے جس کا دل خدا تعالیٰ سے اٹکا ہوا ہو۔ اگر ہمارے دل عرب سے اٹکے ہوئے ہیں، اگر خانہ کعبہ سے اٹکے ہیں تو اس میں کسی کے لئے کوئی اعتراض کی بات نہیں۔ جہانتک ملک کے لئے قربانی کا سوال ہے۔ ہر سمجھدار مسلمان ویسا ہی اس کے لئے درد رکھتا ہے جیسا کہ کوئی بڑے سے بڑا ہندو۔ مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ ہم اپنے مقدس مقامات کو ملک پر مقدم رکھیں۔ تو یہ اعتراض کی بات ہے اس طرح تو کل کو کوئی نادان ہندو یہ بھی کہہ سکتا ہے