خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 236 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 236

1942ء 236 خطبات محمود کوئی آنچ نہ آئے۔ ایک صحابی کو کچھ لوگ قید کر کے لے گئے اور مکہ والوں کے پاس بیچ دیا۔ مکہ والوں کا کوئی آدمی کسی مسلمان کے ہاتھ سے مارا گیا تھا اور وہ اس کے بدلہ میں کسی مسلمان کو مارنا چاہتے تھے۔ اس لئے اسے خرید لیا۔ انہوں نے اس کے گلے میں طوق اور پاؤں میں بیڑیاں ڈالی ہوئی تھیں اور قتل کرنے کی تیاریاں کر رہے تھے کہ ان میں سے کسی نے اس صحابی کو مخاطب کر کے کہا کہ کیا تم یہ پسند نہ کرو گے کہ تم اس وقت آرام سے اپنے بیوی بچوں میں بیٹھے ہو اور تمہاری جگہ یہاں محمد (صلی علی رام ) ہمارے قبضہ میں ہو۔ اس صحابی نے جواب دیا کہ تم لوگ بڑے بے وقوف ہو جو یہ سوال کرتے ہو۔ تم تو یہ کہتے ہو کہ میں یہ پسند کرتا ہوں یا نہیں کہ میں مدینہ میں اپنے بیوی بچوں میں بیٹھا ہوں اور میری جگہ رسول کریم صلی اعلی کی یہاں تمہاری قید میں ہوں۔ میں تو یہ بھی نہیں چاہتا کہ میں اپنے گھر میں ہوں اور آ آنحضرت صلی العلیم کے تلوے میں مدینہ کی گلیوں میں کوئی کانٹا بھی چبھ جائے۔ 4 الله سلم 5 پھر ایک صحابی کے متعلق لکھا ہے کہ رسول کریم صلی علیم ایک جنگ کے لئے تشریف لے گئے اور وہ صحابی کسی اتفاقی حادثہ کی وجہ سے پیچھے رہ گئے۔ وہ اپنے گھر میں داخل ہوئے ان کی بیوی بیٹھی تھیں۔ دونوں کی باہم بہت محبت تھی۔ وہ صحابی جوش سے پیار کے لئے اپنی بیوی کی طرف بڑھے مگر وہ حقارت سے پیچھے ہٹ گئیں اور کہا کہ تمہیں شرم تو نہیں آتی کہ محمد رسول اللہ صلی اللی کم تو لڑائی کے لئے تشریف لے گئے ہیں اور تم بیوی کو پیار کرنے لگے ہو۔ یہ بات سن کر وہ فوراً باہر نکلے اور جنگ کے لئے چل پڑے۔ تحیہ وہ قربانیاں تھیں جو باوجود اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنحضرت صلی علیم کی حفاظت کے وعدہ کے صحابہ نے آپ کی حفاظت کے لئے کیں۔ پس اس میں شبہ نہیں کہ مکہ اور مدینہ کی حفاظت کے لئے اللہ تعالیٰ کے وعدے ہیں مگر اللہ تعالیٰ حفاظت کے لئے آسمان سے فرشتے نہیں اتارا کرتا بلکہ بعض بندوں کو ہی فرشتے بنا دیتا ہے اور ان کے دلوں میں اخلاص پیدا کر دیتا ہے کہ اس کے وعدوں کو پورا کرنے کے لئے ہتھیار بن جائیں۔ وہ گو انسان نظر آتے ہیں مگر ان کی روحوں کو فرشتہ کر دیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ جو لوگ خدا تعالیٰ کی راہ میں شہید ہو جاتے ہیں۔ ان کو مردہ مت کہو ، وہ زندہ ہیں۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ خدا تعالیٰ نے جو کام فرشتوں سے لینا تھا اسے کرنے