خطبات محمود (جلد 23) — Page 221
خطبات محمود 221 * 1942 احمدیت نے پیدا کرنی ہے اور جس ذہنیت کو ترک کر کے انسان مغربیت کا غلام بن جاتا ہے۔آخر کونسی بات ہے جس کے لئے لوگ انگریزوں کی نقل کرتے ہیں۔بس اتنی سی بات کے لئے کہ وہ کہہ سکیں ہم فلاں انگریز سے ملنے کے لئے گئے تھے تو اس نے مسکرا کر ہم سے بات کی۔اتنی سی بات پر وہ لٹو ہو جاتے ہیں اور بندر کی طرح ان کی نقل کرنا شروع کر دیتے ہیں۔تف ہے ایسے ایمان پر اور تف ہے ایسی عزت پر۔تمہارا ایمان تو ایسا ہونا چاہئے کہ اگر دس کروڑ بادشاہ بھی تمہیں آکر کہیں کہ ہم تمہارے لئے اپنی بادشاہتیں چھوڑنے کے لئے تیار ہیں تم ہماری صرف ایک بات مان لو جو اسلام کے خلاف ہے تو تم ان دس کروڑ بادشاہوں سے کہہ دو کہ تف ہے تمہاری اس حرکت پر۔میں تو محمد مصطفی صلی للی نیم کی ایک بات کے مقابلہ میں تمہاری اور تمہارے باپ دادا کی بادشاہتوں کو جوتی بھی نہیں مارتا۔یہ ہے ایمان کی کیفیت۔جو شخص یہ کیفیت اپنے دل میں محسوس نہیں کرتا اس کا یہ دعویٰ کہ اس کا ایمان پکا ہے ہم ہر گز ماننے کے لئے تیار نہیں ہو سکتے۔ہم یہ نہیں کہتے کہ ایسے لوگ مومن نہیں، گنہگار بھی مومن ہوتے ہیں۔مگر ایسی بھگوڑی ذہنیت رکھنے والے کمان اور سرداری کے مستحق نہیں سمجھے جا سکتے۔سرداری اور کمان ایسے لوگوں کے ہاتھ میں ہی ہونی چاہئے جو بہادر ہوں، دلیر ہوں اور سمجھتے ہوں کہ احمدیت کی خاطر اور اس کے وقار کو قائم رکھنے کے لئے ہم ہر ممکن قربانی کرنے کے لئے تیار ہیں۔میں نے ایسی مثالیں اپنی جماعت میں بھی دیکھی ہیں۔میں ایک دفعہ ایک جماعت میں گیا۔اس جماعت کے امیر ایک ایسے دوست تھے جو صرف ستر استی روپے ماہوار تنخواہ لیا کرتے تھے مگر ان کے ماتحت اس وقت ایک احمدی افسر مال تھے ، ایک احمدی سب حج تھے ، ایک فوج کے کپتان تھے اور ایک جیل خانہ کے افسر تھے۔یہ چار بڑے بڑے عہدیدار ان کے ماتحت تھے جن میں سے دو امپیریل سروس کے سمجھے جاتے تھے اور گور نمنٹ کی اعلیٰ درجہ کی نوکریاں امپیریل سروس والوں کو ہی ملا کرتی ہیں۔میں نے ان امیر صاحب کو ایک ضرورت کے ماتحت لکھا تھا کہ سٹیشن پر کوئی شخص استقبال کے لئے نہ آئے سوائے اس کے کہ وہ اپنے امیر سے اس کی اجازت لے چکا ہو۔جب میں سٹیشن پر پہنچا تو ایک نوجوان انہی افسروں میں سے سٹیشن پر موجود تھا۔میں نے ان کی طرف دیکھا تو وہ اپنے امیر صاحب کی طرف اشارہ