خطبات محمود (جلد 23) — Page 220
خطبات محمود 220 * 1942 اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالا یہانتک کہ آخر شہادت کی موت قبول کر لی وہ ایمان کا ایسا اعلیٰ درجے کا مظاہرہ ہے کہ ہر سچا مومن اس کی نقل کرنے کی آرزو اپنے دل میں رکھتا ہے مگر بہر حال ان کی اس وقت شکست کو جو بعد میں بدل گئی اور مسلمانوں کو فتح حاصل ہو گئی حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اتنا محسوس کیا کہ انہوں نے فیصلہ فرما دیا کہ ایسی بھگوڑی ذہنیت رکھنے والے شخص کو اسلامی لشکر کی کمان سنبھالنے کے قابل نہیں سمجھا جاسکتا۔پس غور کرو کہ تائب عکرمہ کو بھی ابو بکر اسلامی لشکر کی کمان نہیں دیتے، بھاگنے والے عکرمہ کو نہیں۔وہ عکرمہ جو میدان سے بھاگا اس کے متعلق یہ فیصلہ نہیں بلکہ یہ فیصلہ اس کے متعلق ہے جو واپس کو ٹا اور جس نے مختلف میدانوں میں دوسرے مسلمانوں کے ساتھ مل کر دشمن پر فتح حاصل کی مگر تو بہ کرنے والے عکرمہ کے متعلق بھی حضرت ابو بکر کا فیصلہ یہی تھا کہ ایسی بھگوڑی ذہنیت کے انسان کے ہاتھ میں اسلامی لشکر کی کمان نہیں دی جاسکتی۔پھر کیسے افسوس کی بات ہے ان احمدیوں کے لئے جو محض اس وجہ سے کہ فلاں شخص کی تنخواہ زیادہ ہے، فلاں دو سو روپے لیتا ہے اور فلاں پانچ سو اور فلاں ہزار۔ان دنیا دار لوگوں کو اپنی جماعت اور پریذیڈنٹ اور سیکر ٹری بنا دیتے ہیں اور یہ نہیں دیکھتے کہ وہ اپنے عمل سے اسلام اور احمدیت کی ہتک کرنے والے ہیں۔جس فوج کے بھگوڑے کمانڈر ہوں اس فوج کی شکست میں کسی کو شبہ نہیں ہو سکتا اور جو لوگ اتنا بھی خدا اور رسول کے وعدوں پر یقین نہیں رکھتے اور خیال کرتے ہیں کہ اگر فلاں شخص گو وہ کیسا ہی دنیا دار ہے عہدیدار نہ ہوگا تو جماعت کی عزت نہیں رہے گی وہ اپنے عمل سے اسلام اور احمدیت کی شکست کا اظہار کرتے ہیں۔پس ایسے لوگ بھی مجرم ہیں جو ان لوگوں کو عہدیدار بناتے ہیں اور وہ لوگ بھی مجرم ہیں جو ایسی باتوں میں یورپین لوگوں کی نقل کرتے ہیں۔وہ محمدصلی نیم کی طرف پیٹھ کر کے دجال کی طرف منہ کر کے کھڑے ہیں۔گویا دجال ان کے نزدیک بڑی عزت والی چیز ہے جس کی نقل کرنے میں ان کی نجات ہے۔لیکن محمدعلی یہ کام ان کے نزدیک نَعُوذُ بِاللہ ایک بے عزت وجود ہے کہ ان کی طرف انہوں نے پیٹھ کر لی ہے۔پس میں ایک دفعہ پھر جماعتوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ یہاں سوال چند بالوں کا نہیں بلکہ یہاں سوال اس ذہنیت کا ہے جو مغربیت کے مقابلہ میں اسلام اور