خطبات محمود (جلد 23) — Page 22
خطبات محمود 22 * 1942 کی جاتی ہے۔زندگی میں چونکہ انسان خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ نہیں دے سکتا کیونکہ وہ کوئی جسمانی وجود نہیں۔اس لئے خدا تعالیٰ کے نمائندوں کے ہاتھ پر بیعت کی جاتی ہے جو جسمانی زندگی کی بیعت کہلاتی ہے۔مگر ایک بیعت وہ ہے جو خدا تعالیٰ کے ہاتھ پر کی جاتی ہے اور وہ بیعت وہی ہے جو موت کے وقت مومن اپنے خدا کے ہاتھ پر کرتا ہے۔اور اس میں کیا شبہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے ہاتھ پر بیعت اس بیعت سے بہت زیادہ شاندار ہونی چاہئے جو اس کے کسی نمائندہ کے ہاتھ پر کی جائے۔پس کامل مومن وہی ہے جس کی زندگی کی بیعت کے دن سے اس کی موت کا دن زیادہ شاندار ہو اور یہ اسی طرح ہو سکتا ہے کہ مومن اپنی نیت اور اپنے اعمال کو اور بڑھاتا چلا جائے یہاں تک کہ وہ وفات پا کر اپنے رب کے حضور حاضر ہو جائے۔میں امید کرتا ہوں کہ جماعتیں جلد سے جلد اپنے فرائض کی ادائیگی کی طرف توجہ کریں گی اور اسی میعاد کے اندر جو تجویز کی گئی ہے اپنی قربانیوں کا اعلیٰ نمونہ دکھائیں گی۔یعنی ہندوستان کی جماعتیں اپنے وقت مقررہ کے اندر اس تحریک میں اپنی طاقت کے مطابق حصہ لیں اور بیرونی ممالک کی جماعتیں اس تاریخ کے اندر اندر حصہ لیں جو ان کے لئے مقرر کی گئی ہے اور اس طرح سب جماعتیں اور افراد مل کر اسلام اور احمدیت کی اشاعت کے لئے اس مستقل بنیاد کو مضبوط کرنے میں مدد دیں جو تحریک جدید کے ذریعہ قائم کی جارہی ہے تاکہ اللہ تعالیٰ ہماری ناچیز کوششوں کو بار آور کرے اور دنیا میں اسلام کا درخت ایسی مضبوطی کے ساتھ قائم ہو جائے کہ اس کو کوئی دشمن اکھاڑ نہ سکے اور اس کے سایہ سے کوئی شخص بھاگ نہ سکے۔اس کے ساتھ ہی ہمیں اللہ تعالیٰ سے دعائیں بھی کرنی چاہئیں کہ وہ اپنے فضل سے ایسا درخت قائم کر دے اور اس کی جڑیں ایسی مضبوط کر دے کہ نہ اسے کوئی شخص اکھاڑ سکے اور نہ اس کے سایہ سے کوئی شخص باہر جاسکے۔“ (الفضل14،جنوری 1942ء) 1: بخاری کتاب بدء الوحى باب كيف كان بدء الوحى الى رسول الله الله الله 2 : سیرت ابن ہشام جلد 1 صفحہ 366 مطبوعہ مصر 1936ء 3 بخاری کتاب المغازى باب قَتل حَمْزَة بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلَبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ 4 بخاری کتاب المغازی باب غَزْوَةٍ مُوْتَةٌ مِنْ أَرْضِ الشَّامِ (الخ)