خطبات محمود (جلد 23) — Page 218
1942ء 218 خطبات محمود انسان سے ہوئی ہے جو دوسرے کے ہاتھ کو پکڑ کر اس کا ہاتھ خدا کے ہاتھ میں دے دیتا ہے۔ اسی طرح اور بھی بیسیوں واقعات صحابہ کی زندگیوں میں پائے جاتے ہیں۔ جن سے اس محبت کا پتہ چلتا ہے جو انہیں رسول کریم صلی الیوم کی ذات سے تھی اور در حقیقت یہی وہ نمونہ تھا جس نے لوگوں کے اندر ایک تغیر پیدا کر دیا۔ پس بو علی سینا کا یہ مثال دینا واقع میں ایک بہت بڑی علمی دلیل تھی۔ تو رسول کریم صلی علیم نے ایک ایسا تغیر دنیا میں پیدا کر دیا ہے جس کی مثال دنیا میں نہیں ملتی۔ ایسے انسان کی فرمانبرداری اور اطاعت سے اگر کوئی شخص منہ موڑ لیتا ہے تو پھر میرا اس پر کس طرح یقین ہو سکتا ہے بلکہ جس شخص کے دماغ میں ایک ذرہ بھر بھی عقل ہو وہ کس طرح کہہ سکتا ہے کہ اس نے رسول کریم صلی علیم کی بات تو نہیں مانی مگر میری مان لے گا۔ میں نے بتایا ہے کہ یا تو وہ پاگل ہو گا یا انتہاء درجے کا متکبر اور مغرور ہو گا جو اس دھوکا میں آجائے گا۔ میں نے متواتر جماعتوں کو توجہ دلائی ہے اور ہمارے ہاں قانون بھی ہے کہ کم سے کم جماعت کے عہدیدار ایسے نہیں ہونے چاہئیں جو ڈاڑھی منڈواتے ہوں اور اس طرح اسلامی احکام کی ہتک کرتے ہوں مگر میں دیکھتا ہوں اب بھی دنیاداری کے لحاظ سے جس کی ذرا تنخواہ زیادہ ہوئی یا چلتا پر زہ ہوا یا دنیوی لحاظ سے اسے کوئی اور اعزاز حاصل ہوا اسے جماعت کا عہدیدار بنا دیا جاتا ہے۔ خواہ وہ ڈاڑھی منڈواتا ہی ہو حالانکہ دنیوی لحاظ سے ہماری جماعت کے بڑے سے بڑے آدمی بھی ان لوگوں کے پاسنگ بھی نہیں۔ جو اس وقت دنیا میں پائے جاتے ہیں اور اگر دنیوی لحاظ سے ایسے لوگوں کو عہد یدار بنایا جا سکتا ہے تو عیسائیوں اور ہندوؤں کو کیوں نہیں بنایا جا سکتا وہ بہت زیادہ دولت مند اور دنیوی لحاظ سے بہت زیادہ معزز ہوتے ہیں مگر در حقیقت یہ کام وہی کر سکتا ہے جسے اسلام اور احمدیت کے جیتنے کی امید نہیں اور جو اسلام اور احمدیت کو ایک شکست خوردہ مذہب سمجھتا ہے ورنہ جو شخص اسلام اور احمدیت کو جیتنے والا مذہب سمجھتا ہے اس کے سامنے تو اگر کروڑ پتی بھی آجائیں تو وہ ان کو حقارت سے ٹھکرا دیتا ہے اور دنیا کے تمام بادشاہوں کو بھی ایک سچے مومن کے مقابلہ میں ذلیل سمجھتا ہے۔ دنیا آخر ہے کیا چیز ؟ کب یہ خدا کے نبیوں کے مقابلہ میں کھڑی ہوئی اور کامیاب