خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 217 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 217

* 1942 217 خطبات محمود پتھروں پر دانے چل لیتے اور پتھروں پر ہی پیس کر پھونکوں سے اس کے چھلکے اڑا کر روٹی پکالیا کرتے تھے۔جب ایران فتح ہوا تو پن چکیاں اور ہوا کی چکیاں آئیں اور ان سے میدے جیسا بار یک آٹا پیسنے لگا۔صحابہ نے کہا سب سے پہلا آٹا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بھیجنا چاہئے چونکہ یہ چکی کا پہلا اعلیٰ درجے کا بار یک آٹا تھا اس لئے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں صحابہ کی طرف سے نذر کے طور پر بھیجا گیا۔اس وقت کئی عور تیں آپ کے ارد گرد بیٹھی تھیں، روٹی پکانے والی نے روٹی پکائی اور ساری عور تیں اسے دیکھ دیکھ کر حیرت کا اظہار کرنے لگیں کہ کیا ہی نرم روئی ہے۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بھی اس کا ایک لقمہ توڑ کر منہ میں ڈالا مگر لقمہ مُنہ میں ڈالنا ہی تھا کہ ٹپ ٹپ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔وہ عور تیں جو پاس بیٹھی تھیں پھر پھلکے پر ہاتھ رکھ کر کہنے لگیں۔ام المومنین روٹی تو بڑی نرم ہے ایسی روٹی تو ہم نے کبھی دیکھی نہیں تھی۔آپ اسے کھا کر روتی کیوں ہیں؟ حضرت عائشہ نے فرمایا یہ لقمہ میرے گلے میں پھنستا ہے۔پھر انہوں نے کہا تم کو کیا معلوم کہ ان پن چکیوں اور ہوا کی چکیوں سے پہلے ہم کیا کیا کرتی تھیں۔رسول کریم صلی نیلم کے زمانہ میں چکیاں نہیں ہوتی تھیں۔ہم غلہ کو پتھر سے ٹوٹ کر اور اس کا آٹا بنا کر روٹی پکا یا کرتے تھے۔جب یہ لقمہ میرے منہ میں گیا تو مجھے معاوہ زمانہ یاد آکر رونا آگیا۔اگر اس وقت بھی ایسی ہی چکیاں ہو تیں۔تو میں اس آٹے کی روٹی پکا کر محمد علی ای کم کو کھلاتی۔تو دیکھو جو آٹا مدینہ کے دوسرے لوگوں کے لئے حیرت پیدا کرنے کا موجب تھا جو آٹا لوگوں کو ملائم ملائم دکھائی دیتا تھا۔جو آٹا لوگوں کو روٹی کھانے کا اشتیاق دلا رہا تھا۔اسی آٹے کا لقمہ عائشہ کے گلے میں پھنسنے لگ گیا۔یہ رسول کریم صلی ال نام کے اعلیٰ درجہ کے اخلاق ہی تھے جنہوں نے ایسا عظیم الشان تغیر پیدا کیاور نہ اگر دنیوی نگاہ سے دیکھو تو حضرت عائشہ کو رسول کریم صلی امی سے شادی کر کے کیا فائدہ پہنچا۔گیارہ بارہ سال کی عمر میں ایک لڑکی بیاہی گئی جو بیس سال کی عمر میں بیوہ ہو گئی اور پھر اس کی ساری عمر ہی بیوگی میں کٹ گئی۔دنیا داروں کی بیویاں ایسے موقع پر شاید روز اپنے خاوندوں کو بدعائیں دیتی ہوں گی مگر وہ تعلق دنیا کا نہیں تھا بلکہ دین کا تھاعائشہ یہ نہیں سمجھتی تھیں کہ میری شادی ایک انسان سے ہوئی ہے بلکہ عائشہ یہ سمجھتیں کہ میری شادی ایک ایسے