خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 214 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 214

1942ء 214 خطبات محمود صا منڈواتے ہی ہیں۔ احمدیوں میں سے بھی ایک حصہ ڈاڑھی منڈواتا ہے اور باوجو د بار بار سمجھانے کے وہ اپنے اس فعل سے باز نہیں آتا۔ یوں وہ کہیں گے ہم اسلام کے لئے قربان، ہم احمدیت کے لئے قربان مگر اس شخص کی قربانی کے دعویٰ پر کوئی احمق ہی یقین کر سکتا ہے جو رسول کریم صلی الیم کے صریح احکام کی عَلَی الاعلان نافرمانی کرتا اور پھر قربانی اور محبت کا بھی دعویٰ کرتا چلا جاتا ہے۔ میرے نزدیک تو وہ شخص بڑا احمق ہے جو اسلام کی عزت اور شریعت کی عزت اور رسول کریم صلی اللہ یوم کی عزت کے قیام کے لئے ایسے شخصوں پر اعتبار کر لیتا ہے جو شخص رسول کریم صلی الم کی اتنی چھوٹی سی بات نہیں مان سکتا۔ اس سے یہ کب توقع کی جاسکتی ہے کہ اگر اس کے سامنے کوئی بڑی بات پیش کی جائے گی تو وہ اسے مان لے گا وہ تو فوراً اکڑ کر کھڑا ہو جائے گا اور کہے گا کہ میں اس کے مطابق عمل کرنے کے لئے تیار نہیں۔ جیسے گزشتہ خطبہ میں ہی میں نے بیان کیا تھا کہ کسی شخص کا ایک حد تک فرمانبرداری کرنا اس بات کی دلیل نہیں ہو سکتا کہ وہ فرمانبردار ہے۔ ممکن ہے اس کی طبیعت کا رخ ہی اسی طرف ہو اور جب اس کی طبیعت کے خلاف کوئی بات پیش ہو تو اس کا انکار کر دے۔ اس صورت میں وہ فرمانبردار نہیں بلکہ اپنی طبیعت کے مطابق کام کرنے والا سمجھا جائے گا۔ پس جو شخص بلا کسی ایسی وجہ کے جو شرعی طور پر اسے بری قرار دے ڈاڑھی منڈواتا ہے وہ صاف طور پر اس امر کا اظہار کرتا ہے کہ محمد صلی العلیم کے اس حکم کو ماننے کے لئے میں تیار نہیں ہوں۔ یہ حکم میری مرضی کے خلاف ہے اور جو شخص محمد صلی علی یم کو بزبانِ حال کہہ دیتا ہے کہ آپ کا فلاں حکم چونکہ میری مرضی کے خلاف ہے۔ اس لئے اس پر میں عمل نہیں کر سکتا۔ اس پر میرے جیسا انسان کیا اعتبار کر سکتا ہے جو رسول کریم صلی علی یم کے خادموں کا ایک خادم ہے۔ جو شخص میرے آقا کی بات نہیں مانتا اور پھر یہ توقع رکھتا ہے کہ میں اسے احمدیت کا پہلوان، اسلام کا خادم اور محمد صلی علیم کا جاں شمار سپاہی سمجھوں۔ وہ میری عقل کی بڑی توہین کرتا ہے اور دوسرے لفظوں میں اس کے یہ معنی ہیں کہ یا تو وہ مجھے پاگل سمجھتا ہے یا ایسا مغرور اور متکبر خیال کرتا ہے کہ گویا میر اخیال ہے کہ جو شخص محمد صلی علی ایم کی الله س بات نہیں مانتے وہ میری ضرور مان لیں گے اور ان دونوں صورتوں میں وہ میری ہتک کرتا الله سة کے مطابق نَعُوذُ بِاللہ محمد صلی علی رام یم سے بھی افضل خیال ہے۔ پس یا تو وہ مجھے متکبر اور اپنے فہم کے ا