خطبات محمود (جلد 23) — Page 215
* 1942 215 خطبات محمود سة کرتا ہے اور یا مجھے بے وقوف خیال کرتا ہے کہ میں اس کی ظاہری باتوں سے دھوکا میں آجاؤں گا۔بو علی سینا ایک مشہور طبیب گزرے ہیں۔اخلاقی طور پر تو وہ اچھے آدمی نہیں تھے۔کثرت سے شراب پیتے اور کئی منہیات کے مرتکب ہو ا کرتے تھے لیکن جیسے بعض لوگ عقیدے میں راسخ ہوتے ہیں انہیں بھی عقیدہ میں رسوخ حاصل تھا۔فلسفی بڑے تھے اور بال کی کھال نکالنے کے عادی تھے۔کسی موقع پر انہوں نے فلسفہ کے متعلق ایک اچھی سی تقریر کی۔ایک شاگردان کی اس تقریر سے ایسا متاثر ہوا کہ کہنے لگا خدا کی قسم تم نبی ہو اور پھر اسی جوش کی حالت میں یہاں تک کہ بیٹھا کہ اگر محمد صلی الیکم کے زمانہ میں تم ہوتے تو تم کو اس مقام پر خدا تعالیٰ کی طرف سے کھڑا کیا جاتا جس مقام پر محمدعلی ای کم کھڑے ہوئے تھے۔بو علی سینا حکیم تھے اور وہ طبائع کو اور طبائع کے سمجھانے کے اوقات کو سمجھتے تھے۔اس وقت وہ خاموش ہو گئے اور مہینوں انہوں نے اپنے دل میں یہ بات رکھی۔وہ سر د ملک کے رہنے والے تھے ایک دفعہ سردی کا موسم تھا صبح کا وقت تھا وہ تالاب کے کنارے کھڑے تھے اور پانی یخ بستہ تھا کہ انہوں نے اپنے اسی شاگرد کو بلایا اور کہا کہ اس تالاب میں چھلانگ لگاؤ۔وہ شاگر دا نہیں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھنے لگا اور کہنے لگا جناب پاگل ہو گئے ہیں۔اس قدر حکمت کا آپ کو دعویٰ ہے اور اس یقینی موت میں آپ مجھے دھکیل رہے ہیں اور اگر آپ پاگل ہی ہو چکے ہیں تو کم از کم میں تو پاگل نہیں کہ آپ کی بات مان لوں۔بو علی سینا نے کہا تمہیں یاد ہے کچھ مہینے گزرے تم نے مجھے کہا تھا کہ اگر محمد صلی علیم کے زمانہ میں میں ہوتا تو جس مقام پر محمد علی ای کم کھڑے کئے گئے ہیں اس مقام پر میں کھڑا کیا جاتا۔احمق ! محمدعلی ای کم نے ایک نہیں ہزاروں کو یقینی موت کے منہ میں دھکیلا اور وہ بغیر چون و چرا کئے موت کے منہ میں چلے گئے اور انہوں نے اُف تک نہ کی مگر میں نے تو صرف تجھ کو جس نے مجھے وہ مقام دینا چاہا تھا جو محمدصلی اللی کام کو خدا نے دیا اس تالاب میں گودنے کو کہا اور تو مجھے پاگل سمجھنے لگا۔کیا تو اس فرق کو نہیں سمجھتا کہ بات کرنی اور چیز ہے اور دنیا کے حالات میں تغیر پیدا کرنے کی قابلیت اور چیز ہے۔میں نے کئی دفعہ سنایا ہے کہ یوں تو جہاد کے موقع پر ہمیشہ ہی مسلمانوں نے اپنے آپ کو آگ میں جھونکا مگر ایک موقع پر ایک صحابی نے بعینہ یہی فقرہ کہا تھا۔چنانچہ بدر کے