خطبات محمود (جلد 23) — Page 213
1942ء 213 خطبات محمود درد صاحب کی کیا بات ہے۔ اس پر وہ کچھ ہنسی کو ضبط کر کے کہنے لگے۔ درد صاحب۔ اور پھر ہنسنے لگ گئے۔ آخر میں نے کہا یہ کیا لغو طور پر ہنس رہے ہو سیدھی طرح کیوں نہیں بتاتے کہ ہوا کیا۔ اس پر انہوں نے بڑی مشکل سے رُک رُک کر اور سینے کو ہاتھ سے دبا دبا کر کہا کہ درد صاحب عورتوں والی پر بیٹھے ہیں۔ میں اس پر اور حیران ہوا کہ یہ عورتوں والی “ کیا چیز ہے۔ مگر میں نے سوچا کہ اب ان سے کچھ پوچھنا فضول ہے خود ہی دیکھنا چاہئے۔ چنانچہ کمرہ کی کھڑ کی کھولی تو میں نے دیکھا کہ درد صاحب بڑے آرام سے ایک پیڑھی پر بیٹھے ہیں۔ پٹھانوں میں چونکہ مرد پیڑھی پر نہیں بیٹھتے بلکہ عور تیں بیٹھتی ہیں اس لئے میاں عبد الاحد خان صاحب کے نزدیک درد صاحب کا پیڑھی پر بیٹھنا ایسی ہی حرکت تھی جیسے ہمارے ملک میں کہتے ہیں کہ فلاں کا منہ کالا کر کے اور گدھے پر سوار کر کے شہر میں پھرایا گیا۔ ان کے نزدیک درد صاحب جیسا عالم آدمی چونکہ عورتوں والا کام کر رہا تھا اس لئے یہ بات ان کے نزدیک سخت ہنسی کا موجب تھی۔ مگر ہمارے ملک میں عام طور پر مرد پیڑھی پر بیٹھ جایا کرتے تھے۔ اب دیکھو یہ ایک رواج ہے جو ہمارے ملک میں پایا جاتا ہے مگر میاں عبد الاحد خان صاحب کو یہ خیال نہیں آیا کہ وہ خود بھی پیڑھی لے کر بیٹھ جائیں بلکہ اپنے رواج کے مطابق انہوں نے درد صاحب کا پیڑھی پر بیٹھنا ہنسی کا موجب سمجھا۔ تو مختلف ملکوں میں مختلف رواج ہوتے ہیں اور انسان ان سب رواجوں کی نقل نہیں کرتا۔ نقل اسی کی کرتا ہے جس کو اپنے دل میں عظمت دے دیتا ہے اور نقل کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ اب اس شخص نے اس قوم کو عظمت دے دی ہے جس کے رواج اور جس کے طریق کو اس نے اختیار کیا ہے مگر جیسا کہ میں نے بتایا ہے جس حد تک سوال ملکی رواج کا ہے اس حد تک ان باتوں کو برداشت کیا جا سکتا ہے۔ مگر جہاں شریعت کے احکام کا سوال آجائے وہاں اگر ہم دوسروں کی نقل کریں گے تو یقینا ہم اسلام کی ذلت کے سامان پیدا کر کے دشمنوں کی مدد کرنے والے قرار پائیں گے۔ انہی نقلوں میں سے ایک نقل ڈاڑھی منڈوانا ہے۔ رسول کریم صلی العلیم نے ایک دفعہ نہیں متواتر ڈاڑھی منڈوانے سے منع فرمایا ہے۔ 23 اور ڈاڑھی منڈوا کر کوئی خاص فائدہ بھی انسان کو نہیں پہنچتا لیکن باوجود اس کے میں دیکھتا ہوں کہ مسلمان کہلانے والے دوسرے لوگوں میں سے تو اکثر شہری ڈاڑھی