خطبات محمود (جلد 23) — Page 204
خطبات محمود 204 * 1942 انصاف کیا ہے۔لیکن دراصل وہ خود جرم کرتے ہیں۔جیسا کہ میں نے مثال دی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ کریم نے شادی شدہ زنا کرنے والے مرد یا عورت کو خود قتل کر دینے کو ناجائز قرار دیا اور ایسا کرنے والے کو قاتل ٹھہرایا۔فرض کرو ایک شخص کسی مجرم کو سزا دیتا ہے اور واقعی انصاف بھی وہی ہے جو اس نے کیا پھر بھی اس کا ایسا کرنا اسے مجرم بناتا ہے مثلاً اس نے کسی شخص کو دو تھپڑ مارے اور واقعی اس شخص کی سزا دو تھپڑ ہی تھی۔مگر پھر بھی اس کا خود بخود اسے دو تھپڑ مارنا اسے مجرم بنادیتا ہے کیونکہ یہ قاضی کا حق تھا کہ اس کے لئے تھپڑ تجویز کرے یا چاہے تو اسے چھوڑ دے۔پس جو شخص خود بخود دو تھپڑ مار دیتا ہے وہ جرم کرتا ہے۔میں نے دوستوں کو متواتر اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا کسی طرح بھی جائز نہیں مگر پھر بھی لوگ جوش میں اس بات کو بھول جاتے ہیں اور ذراسی بات پر غصہ میں آکر قانون کو ہاتھ میں لینے پر اتر آتے ہیں جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے۔نقصان جو ایک پیسہ کا دیکھیں تو مرتے ہیں 5 کسی کا ذرا سا بھی نقصان ہو جائے تو وہ اندھا ہو کر اپنے فرائض اور مناصب کو بھول جاتا ہے اور قانون کو ہاتھ میں لے لیتا ہے جب تک یہ روح نہ مٹے ہمارا یہ دعویٰ کرنا کہ ہمارے دلوں پر احمدیت کی حکومت ہے بالکل غلط ہے۔میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بار ہاسنا ہے کہ مومن ہونا خصی ہونے کے برابر ہے۔جس طرح گھوڑے یا اونٹ یا بیل کو خقی کر دیا جاتا ہے اور اس میں کوئی جوش، شوخی اور نفسانی خواہشات باقی نہیں رہتیں۔اسی طرح انسان جب تک غصہ اور جوش کی حالت میں اپنے نفس کو قابو میں نہیں رکھ سکتا وہ کس بات میں اسلام پر عمل کرنے کا دعویٰ کر سکتا ہے۔حقیقی اطاعت کا وقت یہی ہوتا ہے۔اگر اپنے نفس کی مرضی بھی وہی ہو جو شریعت کا منشاء ہے تو وہ کوئی اطاعت نہیں۔مولانا روم نے اس بات کو نہایت لطیف پیرایہ میں بیان کیا ہے۔آپ نے ایک حکایت لکھی ہے کہ ایک چوہے نے کسی اونٹ کی نکیل پکڑ لی اور چل پڑا اور اونٹ بھی پیچھے پیچھے چلتا گیا آگے سمندر آگیا۔اونٹ پانی سے ڈرتا ہے۔چوہے نے تکیل کو کھینچا کہ وہ پانی میں داخل ہو مگر اونٹ اڑ گیا۔چوہے نے کہا کہ اس وقت تک تم میری اطاعت کرتے