خطبات محمود (جلد 23) — Page 2
1942ء 2 خطبات محمود آنے والی حالت پہلی حالت سے اچھی ہو۔ بعض لوگ دنیا میں ہمیشہ نیا سال آنے پر اس کے بہتر ہونے کی امیدیں دوسروں کو دلاتے ہیں۔ میں ہمیشہ اس پر حیران ہوا کرتا ہوں۔ اخباروں والے جب بھی نیا سال شروع ہوتا ہے۔ اپنے خریداروں کو دھوکا دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ پچھلے سال میں بعض کو تاہیاں ہوئیں۔ بعض مشکلات در پیش تھیں۔ مگر اب ایسا نہ ہو گا۔ نئے سال میں کوئی کوتاہی نہ کی جائے گی لیکن اس کا مطلب دوسرے الفاظ میں یہ ہوتا ہے کہ گزشتہ سال تو ہم نے خوب غداری کی۔ ہمارے مضمون رڈی تھے۔ کاغذ نا قص لگایا جاتا رہا اور اس طرح ہم نے گاہکوں کے پیسے کھائے لیکن اپنے گاہکوں سے تحریک کرتے ہیں کہ تم ایک سال کے لئے اور اپنے آپ کو احمق اور کو دن بناؤ۔ وہ بڑے بڑے وعدے کرتے ہیں کہ نئے سال کے لئے بہت اچھا انتظام کر دیا گیا ہے لیکن وہ پچھلے سال سے بھی بدتر ثابت ہوتا ہے۔ اور وہ آخِرَةُ خَيْرٌ لَكَ مِنَ الأولى کے بجاۓ شَرٌّ لَّكَ مِنَ الْأولی ثابت ہوتا ہے۔ اس سال وہ پہلے سے بھی زیادہ ناغے کرتے ہیں۔ پہلے سے بھی زیادہ روی مضامین چھاپتے ہیں اور پہلے سے بھی زیادہ ناقص کاغذ لگاتے ہیں لیکن جب وہ سال بھی گزر جاتا ہے تو پھر اپیلیں شروع کر دیتے ہیں کہ جو ہو چکا سو ہو چکا۔ گزشتہ را صلوٰۃ۔ جو غلطیاں گزشتہ سال ہوئیں وہ اب نہ ہوں گی۔ اور آپ لوگ اس سال ضرور خریدار بنے رہیں۔ گویا وہ اپنے گاہکوں سے یہ کہتے ہیں کہ آپ لوگ ایک سال کے لئے اور بیوقوف بننا پسند کریں۔ یہ اخبار نویس ہمیشہ جھوٹ بولنے کے عادی ہوتے ہیں۔ سوائے دینی اخباروں کے یا بڑے بڑے دنیوی اخباروں کے جو اس الزام سے بری ہیں۔ نیز یہ ہندوستان کے اخبار نویسوں کی حالت ہے۔ ورنہ یورپ کے اخبار نویس ایسے نہیں ہوتے۔ بے شک اب ہندوستان میں بھی بہت سے اخبار ٹھیک ہو رہے ہیں لیکن ایک کافی حصہ ابھی تک ایسا ہی ہے۔ ان اخبار نویسوں کے علاوہ ایک طبقہ اور ہے جو یہ سمجھ ہی نہیں سکتا کہ گزشتہ سال ان کے لئے اچھا گزرا یا برا گزرا اور آئندہ سال کیسا ہو گا۔ وہ ہمیشہ دبدھا اور شک کی حالت میں رہتے ہیں۔ وہ جانتے نہیں کہ پچھلا سال کیسا گزرا اور آئندہ کیسا گزرے گا۔ مگر دیکھو مومن کی حالت کیسے اطمینان کی ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی الم کے لئے ایک قانون مقرر فرمادیا کہ وَ لَلْآخِرَةُ خَيْرٌ لَكَ مِنَ الاُولیٰ کہ ہر دن پہلے دن سے اور ہر سہ ر سال پہلے سال سے