خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 197 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 197

* 1942 197 خطبات محمود بڑھاؤ۔پھر جب ہم کھانے میں ہاتھ ڈالنے لگتے ہیں تو وہ کہتا ہے دیکھنا حلال کھاؤ اور جب حلال کھانے لگیں تو وہ کہتا ہے کہ طیب کھاؤ اور جب حلال و طیب کھانے لگیں تو اسلامی قانون ہمیں کہتا ہے کہ اسراف نہ کرو۔ایک حد کے اندر کھاؤ، زبان کی لذت کے ماتحت نہ کھاؤ بلکہ بھوک کے مطابق کھاؤ۔جانوروں کی طرح پیٹ نہ بھر و بلکہ صحت اور عقل کا خیال رکھو۔پھر جب کھا چکتے ہیں تو اسلامی قانون پھر سامنے آجاتا اور کہتا ہے کہ جس نے کھانے کو دیا اس کا شکریہ ادا کرو اور کہوالْحَمْدُ لِلہ۔پھر ہم پانی پیتے لگتے ہیں تو اسلامی قانون سامنے آجاتا اور کہتا ہے کہ سانس لے لے کر پیو، یکدم نہ پیو، سانس بر تن کے اندر نہ لو۔پھر جب کھانے سے فارغ ہو چکتے ہیں تو کہتا ہے کہ ہاتھ دھولو۔ہم کپڑا پہنے لگیں تو اسلامی قانون پھر ہمیں روک لیتا ہے اور کہتا ہے کہ دائیں طرف سے پہنا شروع کرو اور خدا تعالیٰ کا شکر ادا کر لو جس نے یہ کپڑا عطا کیا۔جو تا پہنے لگیں تو کہتا ہے اس طرح پہنو ، اتارنے لگیں تو کہتا ہے کہ اس طرح اتارو۔پھر جب ہم کام کاج سے فارغ ہو کر گھر میں اپنے بیوی بچوں میں جاتے ہیں تو وہاں بھی اسلامی قانون ہمارے سامنے آجاتا اور کہتا ہے کہ فلاں فلاں عورت سامنے نہ آئے، فلاں فلاں وقت اپنے بچے بھی سامنے نہ آئیں۔ہم سونے لگتے ہیں تو کہتا ہے اس طرح سود۔اٹھتے ہیں تو ہمیں بتاتا ہے کہ اس طرح اٹھو۔کاروبار کے متعلق بھی وہ ہدایات دیتا ہے کہ کس طرح دیانت، ہمت، چستی اور عقل کے ساتھ کرو۔وہ ہمیں بتاتا ہے کہ قدم قدم پر اپنے مالک اور آقا سے استخارہ کرتے رہو۔جب وہ تمہارے کاروبار میں برکت دے تو اس کا شکریہ ادا کرو اور جب اس کی طرف بلانے کے لئے مؤذن کی آواز بلند ہو تو کام کاج بند کر کے مساجد کی طرف چلے جاؤ۔جب مسجد کی طرف چلو تو سنجیدگی اور وقار کے ساتھ چلو۔پھر جب ہم مسجد کے دروازہ پر پہنچتے ہیں تو وہ روک کر کہتا ہے کہ دیکھنا کوئی بدبودار چیز تم نے نہ کھائی ہوئی ہو، تمہارے کپڑوں سے بُو نہ آتی ہو جس سے دوسروں کو تکلیف ہو۔جب مسجد میں پہنچو تو آرام اور ادب سے بیٹھو د نیوی کاروبار کی باتیں وہاں نہ کرو، جھگڑے تنازعہ کی باتیں نہ کرو بلکہ نماز کا انتظار کرو اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے رہو۔پھر جب نماز شروع ہوتی ہے تو اس کے لئے بھی شروع سے آخر تک ہدایات ہیں۔ہمارے روز مرہ کے معاملات، ہمسایوں سے معاملات، غریبوں اور امیروں سے معاملات،