خطبات محمود (جلد 23) — Page 184
1942ء 184 خطبات محمود مگر ہندو ہمارے دشمن ہیں، ہم سکھوں کے خیر خواہ ہیں مگر سکھ ہمارے دشمن ہیں، ہم عیسائیوں کے خیر خواہ ہیں مگر عیسائی ہمارے دشمن ہیں، ہم انگریزوں کے وفادار ہیں مگر وہ بھی ہمارے دشمن ہیں۔ ان کی مشین جب چلتی ہے ہمارے خلاف ہی چلتی ہے۔ گو یا ہم 32 دانتوں میں زبان کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ہم ہر ایک کے خیر خواہ ہیں مگر ہمارا ہر ایک دشمن ہے اس وقت لڑائی ہو رہی ہے، ہماری جماعت کے ہزاروں نوجوان بھرتی ہو کر جنگ میں جارہے ہیں اور ماں باپ اور خویش و اقارب کو چھوڑ کر جاتے ہیں۔ کئی ایسے ہیں جو کہتے ہیں ہمیں نوکری کی ضرورت نہیں مگر ان کے ماں باپ کہتے ہیں کہ نہیں حضرت خلیفة المسیح کا حکم ہے اس لئے ضرور جاؤ۔ مگر پنجاب کے انگریز افسر ہمیں باغی ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر چہ ہمارا اس سے کچھ نہیں بگڑ تا جتنا وہ ہم کو باغی ثابت کرنا چاہتے ہیں اتنا ہی خدا تعالیٰ کی نظر میں ہمارا درجہ زیادہ بلند ہو تا ہے۔ مسلمان ہم کو کافر قرار دیتے ہیں، ان کی سیاسی انجمنیں قانون بناتی ہیں کہ ہمارے ممبروں کا پہلا فرض یہ ہو گا کہ احمدیوں کو دائرہ اسلام سے نکلوائیں مگر ان پر جو بھی مصیبت آتی ہے اس میں ہم ان کے ساتھ ہوتے ہیں اور مشکلات میں قربانیاں کرتے ہیں اور اپنے مال اور اپنی جانیں خرچ کرتے ہیں۔ اسی طرح ہم ہندوؤں کی بھی مدد کرتے ہیں۔ جہاں کہیں فساد ہو، احمدی ان کی مدد کرتے ہیں۔ جب مولچوں کے علاقہ میں فساد ہوئے تو ہائیکورٹ کے ایک حج نے یہ بیان کیا کہ جب مسلمان ہندوؤں کو مارتے تھے تو احمدی اپنی جانوں کو خطرہ میں ڈال کر ان کو بچاتے تھے مگر ہندوؤں کا جہاں بھی بس چلے احمدیوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ سکھ گوروؤں کی ہم اتنی ہی عزت کرتے ہیں جتنی کی جاسکتی ہے مگر سکھ ہمارے خلاف ہیں اور ان کی آنکھوں سے ہمارے خلاف شعلے نکلتے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ جس طرح بھی ہو ان کو ختم کر دیا جائے۔ دوسرے مسلمانوں کی ہم ہر موقع پر مددد کرتے ہیں مگر وہ ہمیشہ ہمارے خلاف رہتے ہیں اور ایسا ہونا بھی چاہئے کیونکہ اسماعیلی سلسلہ ہے اور حضرت ابراہیم کی پیشگوئی ہے کہ :۔ “ سب کے ہاتھ اس کے بر خلاف ہوں گے اور وہ اپنے سب بھائیوں کے سامنے بو دو باش 66 کرے گا۔ 4 سو اگر ہمارے خلاف ہمارے بھائیوں کی تلوار اٹھی رہتی ہے تو یہ ثبوت ہے ہمارے