خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 178 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 178

* 1942 178 خطبات محمود صدقہ کے معنے خدا تعالیٰ سے اپنے بچے تعلق کا اظہار ہے اور چونکہ ماں باپ کی خدمت بھی خدا تعالیٰ کا حکم ہے اس لئے وہ بھی صدقہ کہلا سکتا ہے مگر عربی میں جو صدقہ کا مفہوم ہے اس کے لحاظ سے ان معنوں کے لحاظ سے نہیں کہ یہ ایسا خرچ ہے جو رڈ بلا کے لئے انسان کرتا ہے۔اسی طرح بیوی کے ساتھ سلوک بھی عربی کے مفہوم کے لحاظ سے صدقہ ہے۔رسول کریم صلی ا ہم نے فرمایا ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے منہ میں لقمہ ڈالتا ہے تو وہ بھی صدقہ ہے۔2 مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ انسان یہ سلوک رڈ بلا کے خیال سے اور آئندہ کی امید کے لئے کرتا ہے بلکہ ان معنوں کے لحاظ سے کہ وہ بیوی کے ساتھ نیک سلوک کرتا ہے، اس سے اس کی بیوی کا دل خوش ہوتا ہے اور وہ خیال کرتی ہے کہ میرے خاوند کو میرے کھانے کا فکر۔ہے اور یہ فعل تعلقات کو بڑھانے والا اور خدا تعالیٰ کے منشاء کو پورا کرنے والا ہے۔یہ صدقہ ہے۔مگر ہماری زبان میں صدقہ کے معنے یہ ہیں کہ جو خرچ رڈ بلا کے لئے اور آئندہ کی امید میں غرباء پر کیا جائے۔مثلاً اس امید میں کہ ہمارا فلاں رشتہ دار بیمار ہے وہ اچھا ہو جائے یا کوئی مقدمہ ہے وہ ہمارے حق میں ہو جائے یا قرض اتر جائے یا عزت پر کوئی حرف آتا ہے اس سے محفوظ رہیں۔صدقہ کا عربی میں یہ مفہوم بھی ہے اور اسی مفہوم کے لحاظ سے رسول کریم صلی الم نے فرمایا ہے الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِّنَ الْيَدِ السُّفْلی کہ صدقہ دینے والا اسے قبول کرنے والے سے اچھا ہے اور مال کی اس تقسیم کو رسول کریم صلی اللہ نیلم نے عذابوں سے بچنے کا ذریعہ قرار دیا ہے اور یہ گویا خدا تعالیٰ کے ساتھ سو دے کا رنگ اپنے اندر رکھتا ہے اور اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یا اللہ میں یہ خرچ کرتا ہوں اور تو اس کے عوض فلاں چیز مجھے دے دے۔دوسرے اخراجات اپنے اندر یہ رنگ نہیں رکھتے۔کسی شخص کا کوئی رشتہ دار یا دوست باہر سے آتا ہے تو وہ اس کی دعوت کرتا ہے۔وہ رڈ بلا کے خیال سے اور آئندہ کی امید کے لئے صدقہ نہیں کہلا سکتا بلکہ خدا تعالیٰ کا شکر یہ سابق احسان پر ہے۔اسی طرح ماں باپ سے نیک سلوک، بیوی سے نیک سلوک، بچوں سے نیک سلوک، ہمسایوں سے نیک سلوک، مسافروں سے نیک سلوک، یہ سب ان معنوں میں صدقہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے اور اس کی غرض یہ ہے کہ دنیا میں محبت بڑھے، امن و چین کا دور دورہ ہو اور دنیا کا تمدن اچھا ہو اور لوگ آپس میں مل ملا کر رہیں اور سة