خطبات محمود (جلد 23) — Page 167
1942ء 167 خطبات محمود کرتیں اور اگر وہ مبلغوں کو بھی اس لپیٹ میں لے لیں تو تبلیغ کرنی مشکل ہو جائے۔ آخر مبلغ دوسرے ملکوں میں تبلیغ کرنے کے لئے جاتا ہے جاسوسی کرنے کے لئے تو نہیں جاتا، اگر جاپان اور امریکہ اور روس اور اٹلی اور سپین اور جرمنی وغیرہ حکومتوں کو یہ خیال پیدا ہو جائے کہ احمدی مبلغ انگریزوں کے جاسوس ہوتے ہیں تو وہ انہیں تبلیغ کی کہاں اجازت دیں گی۔ ایسی صورت میں تو جب کوئی مبلغ ان کے ملک میں جائے گا وہ اسے پکڑ کر باہر نکال دیں گے۔ پس یہ نہایت ہی نامناسب بات ہے کہ کسی جماعت کے مبلغوں کو اس کام پر مامور کیا جائے۔ اس افسر نے صوفی صاحب سے یہ بھی کہا کہ اگر آپ جاپان کے حالات نہیں بتائیں گے تو ڈیفنس آف انڈیا رولز کے ماتحت آپ کو گرفتار کر لیا جائے گا۔ صوفی صاحب نے کہا اگر آپ نے مجھے گرفتار ہی کرنا ہے تو بے شک کر لیں۔ اس واقعہ کے بعد ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ انہیں نمبر دس کے بستے میں رکھ لیا گیا۔ چنانچہ اب تک ان کی مخفی نگرانی کی جاتی ہے۔ یوں مخفی تو نہیں کہ کسی کو اس کا پتہ نہیں۔ جس شخص کی نگرانی کی جاتی ہے، اسے تو پتہ لگ ہی جاتا ہے۔ اسی طرح اس کے دوستوں کو بھی پتہ لگ جاتا ہے۔ البتہ ظاہر میں پولیس ان کے دروازے پر نہیں بیٹھتی۔ اس کے بعد یکدم وہ پر انا واقعہ جو سال ڈیڑھ سال کا تھا اٹھانا شروع کر دیا گیا۔ پس ہمارے لئے اس بات کے یقین کرنے کی وجوہ موجود ہیں کہ اس میں بعض اعلیٰ حکام اور بعض سی۔ آئی۔ ڈی کے افسروں کا ہاتھ تھا چنانچہ ہمارے دوسرے مبلغ مولوی عبد الغفور صاحب کو جو مولوی ابو العطاء صاحب کے بھائی ہیں انہیں بھی دھوکا دے کر امر تسر بلایا گیا اور ان سے کہا گیا کہ کیا تم جاپان کے متعلق ہمیں معلومات دے سکتے ہو یا اگر تمہیں جاسوس بنا کر بھیجا جائے تو تم یہ کام کر سکتے ہو حالانکہ جس افسر نے یہ بات کہی اس کا ضلع گورداسپور کے کسی فرد کو گورداسپور کی پولیس کی وساطت کے بغیر بلانے کا کوئی اختیار ہی نہیں تھا اس کے ساتھ ہی اس نے یہ دھمکی بھی دی کہ جاپان سے جو لوگ آئے ہیں انہیں گورنمنٹ پکڑ رہی ہے اگر تم نے حالات نہ بتائے تو تمہیں بھی پکڑ لیا جائے گا حالانکہ یہ بالکل غلط ہے۔ ہزاروں لوگ ایسے ہیں جو جاپان کا یہ غلط جو سے آئے مگر انہیں کسی نے گرفتار نہیں کیا صرف سی آئی ڈی کے بعض افسر معلومات حاصل کرنے کے لئے اس قسم کی دھمکی دے دیتے ہیں۔ پس اگر گورنمنٹ کے معنے وزراء کی با قاعدہ