خطبات محمود (جلد 23) — Page 161
خطبات محمود 161 * 1942 وٹینگ روم میں تشریف لے چلیں۔مگر وہ پھر کہنے لگا کہ ٹھہر و مجھے ابھی کچھ نہ کہو۔خیر کچھ دیر میں اور انتظار کرتا رہا آخر میں نے پھر کہا کہ صاحب آپ ٹہل کیوں رہے ہیں۔وٹینگ روم میں کیوں تشریف نہیں رکھتے۔منشی غلام حیدر صاحب ان کا نام تھا اور وہ راولپنڈی کے رہنے والے تھے۔انہوں نے سنایا کہ جب میں نے بار بار ڈپٹی کمشنر سے یہ بات کہی تو اس نے مجھے قریب بلایا اور کہا مجھے اس وقت بڑی سخت تکلیف ہے اور اگر میری اس تکلیف کا ازالہ نہ ہوا تو میں سمجھتاہوں میں پاگل ہو جاؤں گا۔میں نے کہا کیا تکلیف ہے۔کہنے لگا میں نے جس وقت سے مرزا صاحب کی شکل دیکھی ہے میرے دل میں یہ کامل یقین پیدا ہو گیا ہے کہ مرزا صاحب مجرم نہیں ہیں۔ادھر میں دیکھتا ہوں کہ شہادت ان کے خلاف ہے۔اور جس نے مقدمہ کیا ہے وہ ایک معزز پادری ہے جسے جھوٹا سمجھنے کی بظاہر کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔اب میری یہ حالت ہے کہ مرزا صاحب کی شکل دیکھنے کے بعد میں جس طرف دیکھتا ہوں مرزا صاحب کی تصویر میرے سامنے آجاتی ہے اور وہ کہتی ہے میں مجرم نہیں۔میں اس سے بری ہوں۔پس میری حالت اس وقت بالکل پاگلوں کی سی ہے۔عدالت اور قانون کہتا ہے کہ میں ان کو سزا دوں مگر ادھر میرے سامنے ہر وقت ان کی تصویر رہتی ہے اور وہ میری آنکھوں کے سامنے سے ہتی ہی نہیں اور وہ تصویر مجھے یہ کہتی ہے کہ میں مجرم نہیں ہوں۔میں سمجھتا ہوں اگر مجھ پر یہی حالت طاری رہی تو میں پاگل ہو جاؤں گا۔وہ کہتے ہیں میں نے ڈپٹی کمشنر سے کہا کہ آپ اندر تشریف رکھئے میں ابھی سپر نٹنڈنٹ صاحب پولیس کو بلاتا ہوں۔آپ ان سے اس بارہ میں مشورہ لیں۔چنانچہ سپر نٹنڈنٹ پولیس کو بلایا گیا۔انہوں نے کہا کہ بات یہ ہے کہ میرے دل پر بھی یہی اثر ہے کہ یہ مقدمہ جھوٹا ہے مگر اس میں خود عدالت کی غلطی ہے جس شخص کو مرزا صاحب کے خلاف گواہ پیش کیا جاتا ہے اسے پادریوں کے حوالے کیا ہوا ہے اور وہ اس سے جو جی چاہتا ہے کہلوا لیتے ہیں حالانکہ اسے پولیس کے حوالے کرنا چاہئے تھا۔آپ اس گواہ کو میرے حوالے کر دیں میں اس کا بیان لے کر اصل حقیقت معلوم کرنے کے لئے تیار ہوں۔ڈپٹی کمشنر نے آرڈر دے دیا کہ عبد الحمید کو پادریوں سے لے کر سپر نٹنڈنٹ پولیس کے حوالے کیا جائے۔سپر نٹنڈنٹ صاحب پولیس کا بیان ہے کہ جب میں نے اس سے بیان لیا تو پہلے تو