خطبات محمود (جلد 23) — Page 147
1942ء 147 خطبات محمود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے سامنے بھی یہ سوال بار بار پیش ہو تا رہتا تھا۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ ہر سال ہی کچھ کنچنیاں مرتے وقت دین کے لئے اپنی جائداد یا روپیہ وقف کرنا چاہتی ہیں۔ دیکھو انہوں نے یہ روپیہ کتنی بے حیائی سے کمایا ہوتا ہے، وہ عصمت فروشی روپیہ کے لئے ہی کرتی ہیں مگر جب موت سامنے آتی ہے تو وہی روپیہ جس کی خاطر انہوں نے خاندان کی ناک کٹوائی، جس کی وجہ سے وہ اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کے سامنے آتے ہوئے شرماتی ہیں اور جس کی وجہ سے وہ شرفاء میں منہ دکھانے کے قابل نہیں ہو تیں ان میں سے بعض جب مرنے لگتی ہیں تو منتیں کرتی ہیں کہ یہ روپیہ لے لو اور کسی دینی کام پر خرچ کر دو۔ تو اگر کنچنی بھی مرتے وقت خَشِيتُ الله سے اتنی متاثر ہو جاتی ہے تو مومنوں پر کتنا اثر ہونا چاہئے۔ جتنا جتنا قرب کسی کو اللہ تعالیٰ کا حاصل ہوتا ہے اتنا ہی ایسے موقع پر اس کے دل میں خشیت زیادہ پیدا ا ہوتی ہوا ہے۔ رسول کریم صلی علیم کے متعلق آتا ہے کہ جب بادل آتا تو آپ گھبرا کر کبھی کمرہ کے اندر جاتے کبھی باہر آتے۔ ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ کیا بات ہے۔ آخر یہ بادل ہی ہیں ان سے سے گھبرانے کی کیا وجہ ہے۔ آپ نے فرمایا بے شک یہ بادل ہیں مگر تم سے پہلی قوموں پر بھی ایسے بادل آتے تھے اور وہ ان کو دیکھ کر خوش ہوتی تھیں مگر بعض بادل ہی ان کے لئے عذاب ثابت ہوئے اور ان کو تباہ کر گئے۔ ہمارے ملک میں دیکھو جب گرمیوں میں بادل آئیں تو لوگ کس طرح خوش ہوتے ہیں اور بعض لوگ خوشی سے گاتے ہیں۔ بچے خوش ہو ہو کر اچھلتے اور کو دتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کا رسول (صلی ال) جس نے خدا کے کلام میں یہ پڑھا تھا کہ کبھی ان بادلوں سے پتھر بھی برسنے لگتے ہیں اور یہی بادل کبھی عذاب کا موجب بھی بن جایا کرتے ہیں، بادلوں کو دیکھ کر گھبراہٹ میں کبھی باہر آتا، کبھی کمرہ صا الله الله س کے اندر جاتا اور اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرتا کہ اس کے غضب کا بادل نہ آئے اور رحمت کی بارش ہو۔ پس اگر ہمارے آقا و سردار کو بادل دیکھ کر اس قدر گھبراہٹ ہوتی تھی تو ہمیں ان ! عظیم الشان فوجوں کے بادلوں کو دیکھ کر جو ہماری جانب بڑھتے چلے آ رہے ہیں کتنی گھبراہٹ ہونی چاہئے جن کا مقصد وحید ہی یہ ہے کہ اپنے گولوں اور بموں سے جس قدر زیادہ سے زیادہ