خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 146 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 146

* 1942 146 خطبات محمود اسے جلد سے جلد پورا کرنا ہوتی ہے۔اس لئے پہلے چھ ماہ میں کم سے کم وعدوں کا ساٹھ پینسٹھ فیصدی ادا ہو جانا چاہئے مگر ادا ئیگی اب تک ہوئی ہے 42 فیصدی کے قریب۔جیسا کہ میں نے کئی بار دوستوں کو توجہ دلائی ہے اس روپیہ سے ہماری جماعت کو مد نظر رکھتے ہوئے بہت بڑی جائداد خریدی جارہی ہے جس کی قسطیں ادا کی جارہی ہیں اور ایک لاکھ روپیہ سالانہ کے قریب اس پر خرچ آتا ہے اگر ہم یہ قسطیں ادا کر کے اس جائداد کو چھڑانے کے قابل ہو جائیں تو عام قیمتوں کے لحاظ سے بھی یہ پندرہ سولہ لاکھ روپیہ کی جائداد ہو جاتی ہے اور اگر صحیح طور پر آبادی کی جا سکے تو یہ میں بائیس لاکھ روپیہ کی جائداد ہو گی اور یہ جائداد گویا ایک ایسا ریز رو فنڈ ہو جائے گا کہ جس سے تحریک جدید کے مستقل اخراجات پورے کئے جاسکیں گے اور مبلغوں کو دنیا میں پھیلایا جا سکے گا لیکن اگر دوست اس وقت چستی اور ہمت سے کام نہ لیں تو یہ بوجھ بالکل بے کار اور بے سود ثابت ہو گا کیونکہ وقت پر اگر قسطیں ادانہ ہوں تو گورنمنٹ زمین کو ضبط کر سکتی ہے اور بعض دفعہ بڑے بڑے تاوان ڈال دیتی ہے۔پس چونکہ یہ اقساط مئی میں ادا کی جاتی ہیں۔میں پچھلے سالوں میں بھی دوستوں کو یہ تحریک کر تا رہا ہوں کہ وہ 31 ، مئی تک اپنے وعدے ادا کرنے کی کوشش کریں اور اب تو مئی کے ختم ہونے میں بہت ہی تھوڑے دن رہ گئے ہیں۔پھر بھی جن کو خدا تعالیٰ نے عزم اور ہمت دی ہے وہ ان تھوڑے دنوں میں بھی بہت کچھ کر سکتے ہیں۔زمیندار احباب کے لئے جون کے آخر تک مدت مقرر ہے اور اگر وہ بھی ہمت کریں تو اپنے وعدوں کا بہت سا حصہ ادا کر سکتے ہیں۔اس میں شبہ نہیں کہ اس زمانہ میں قحط کی وجہ سے بوجھ بہت ہیں مگر اس میں بھی شک نہیں کہ جس وقت انسان کو تباہی کے آثار نظر آتے ہیں تو قربانی کی روح بھی بہت بڑھ جاتی ہے۔ذلیل ترین وجود بھی ایسے وقت میں بڑی بڑی قربانیاں کر دیتے ہیں ہمارے ملک میں ہر سال یہ سوال علماء و فقہاء کے سامنے پیش ہو تا ہے کہ کوئی کمنچنی مسجد کی تعمیر کے لئے روپیہ دینا چاہتی ہے اسے قبول کیا جائے یا نہ کیا جائے۔