خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 107 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 107

* 1942 107 خطبات محمود کی قبر پر گولہ باری کی اور اس ظلم میں چرچل بھی شامل تھا۔سالی لینڈ کے مخالف لیڈر کا نام محمد تھا۔اس سے مقرر نے سمجھا کہ شاید بانی اسلام علیہ الصلوۃ و السلام کی قبر وہاں ہے۔میں نے خیال کیا کہ دیکھو یہ لوگ اسلام اور اس کی تاریخ سے اتنے جاہل ہیں اور دنیا کو دھوکا یہ دے رہے ہیں کہ یہ اسلام اور مسلمانوں کے بڑے خیر خواہ ہیں۔مگر دیکھو کس طرح یہ لوگ رسول کریم صلی اینیم کی محبت کو اکسانے کے لئے جھوٹے واقعات بیان کرتے ہیں کیونکہ یہ جانتے ہیں کہ اس طرح مسلمان طیش میں آجائیں گے۔پس جو لوگ اللہ تعالیٰ کے ہو جاتے ہیں ان کی عزت کو کوئی نہیں مٹا سکتا۔ان کا نام لیتے ہی وہ ولولہ اور جوش پیدا ہو جاتا ہے کہ کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا قرآن کریم نے بتایا ہے کہ کمزور ایمان والا شخص دو کا مقابلہ کر سکتا ہے اور پورے ایمان یمان والا دس کا بلکہ دس سے زیادہ کا بھی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز میں زیادتی رکھی ہے۔گویا ایک ہزار مومن دس ہزار دشمن کے لئے کافی ہے اور صحابہ پر تو ایسے وقت بھی آئے ہیں کہ ایک ایک نے ہزار ہزار کا مقابلہ کیا ہے۔رومیوں کے ساتھ ایک جنگ میں ساٹھ مسلمانوں نے جن میں سے کچھ صحابہ اور کچھ دوسرے تھے۔ساٹھ ہزار پر حملہ کیا تھا۔پس دنیا کے سامانوں پر نگاہ نہ کرو۔مومن کبھی ظاہری سامانوں پر انحصار نہیں رکھتا۔یہ صحیح ہے کہ اگر کسی کے پاس ایک لٹھ ہے تو وہ بھی کام آسکتا ہے اور اس نے اس پر جو چار یا پانچ آنے خرچ کئے ہیں وہ بھی قوم کی خدمت کی ہے لیکن اگر وہ دعاؤں میں لگا رہے تو وہ ہزار لٹھ اور جمع کر سکتا ہے۔جو شخص ظاہری لٹھ رکھتا ہے اس نے غلطی نہیں کی کیونکہ ایک ہزار ایک، ایک ہزار سے زیادہ ہی ہے۔اس لئے وہ بھی ثواب کا مستحق ہے مگر اصل اور حقیقی لٹھ جس سے ہم مقابلہ کر سکتے ہیں دعا ہی ہے۔گذشتہ خطبہ میں میں نے بیان کیا تھا کہ دعا کا ایک پہلو یہ ہے کہ اضطرار کے ساتھ دعا کی جائے۔آج میں اس کا دوسرا پہلو بیان کرنا چاہتا تھا مگر اب تین بج گئے ہیں۔اس لئے کسی اگلے جمعہ میں اسے بیان کروں گا اور اس وقت صرف اس نصیحت پر اکتفا کرتا ہوں کہ بے شک جو دنیوی سامان کر سکتے ہو اپنی حفاظت کے لئے کرو۔مگر اس بات کو یاد رکھو کہ اصل چیز ایمان ہے۔اپنے اندر ایک تغیر پیدا کرو۔قرآن کریم کی تلاوت با قاعدہ کرو اور صحابہ کرام کی قربانیوں کے واقعات بار بار سامنے لاتے رہو۔قرآن کریم