خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 100 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 100

1942ء 100 خطبات محمود کاش یہ الفاظ میرے منہ سے نکلے ہوتے۔ گزشتہ جمعہ کے خطبہ میں میں نے بتایا تھا کہ انصار کے ہی دو نو عمر لڑکوں نے کس طرح ثابت کر دیا کہ یہ لوگ کن جذبات کے ساتھ جنگ میں شامل ہوئے تھے۔ آج میں مضمون کے لحاظ سے بتاتا ہوں کہ کس طرح یہ لوگ اپنی تمام قوتوں کو اسلام کے لئے صرف کرنے کے لئے تیار رہتے تھے۔ جب دونوں لشکروں نے ایک دوسرے کے بالمقابل ڈیرے ڈل دیئے تو مکہ والوں میں ہی چہ میگوئیاں ہونے لگیں کہ مسلمانوں میں اکثر حصہ مہاجرین کا ہے جو ہمارے رشتہ دار ہیں۔ اگر لڑائی میں ہم لوگ مارے گئے جب بھی اور اگر وہ مارے گئے جب بھی مرنے والے ہماری ہی قوم کے مریں گے۔ اس لئے بعض سمجھدار لوگوں نے یہ تحریک کی کہ صلح کر لی جائے اور لڑائی نہ کی جائے۔ یہ بات ایسی پختہ ہوتی چلی گئی کہ لشکر میں ایک بہیجان پیدا ہو گیا اور بہتوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ لڑائی نہیں ہونی چاہئے۔ حالت یہ تھی کہ کسی کا ایک بھائی مسلمانوں میں تھا اور دوسرا کفار میں، کسی کا بیٹا مسلمانوں میں تھا اور باپ کافروں کے لشکر میں، کسی کا باپ اِدھر تھا اور بیٹا اُدھر (حتی کہ حضرت ابو بکر کا ایک بیٹا بھی کفار کے لشکر میں شریک تھا۔) اور یہ چرچا ہونے لگا کہ کیا باپ بیٹے سے اور بیٹا باپ سے اور بھائی بھائی سے لڑے گا۔ ان باتوں کا طبعاً لوگوں پر اثر ہوا اور جب ہیجان بہت بڑھا تو ابو جہل جو رسول کریم صلی الی دوم اور مسلمانوں کا سخت دشمن تھا۔ ایک شخص کے پاس گیا جس کا بھائی ابتدائی زمانہ میں کسی مسلمان کے ہاتھ سے مارا گیا تھا اور اس سے کہا کہ کیا تم چاہتے ہو کہ تمہارے بھائی کا بدلہ نہ لیا جائے۔ اس نے کہا ضرور لیا جانا چاہئے۔ ابو جہل نے کہا کہ بس آج ہی تو اس کا موقع ہے۔ تم شور مچاؤ کہ میرے بھائی کا بدلہ ضرور لیا جائے۔ عرب قوم مہذب نہ تھی اور ان میں بعض بے ہودہ رسوم تھیں۔ اپنی ایک رسم کے مطابق وہ شخص مادر زاد ننگا ہو کر باہر آیا اور رونے پیٹنے لگا اور بین کرنے لگا کہ او میرے بھائی! آج تیری قوم نے تجھے چھوڑ دیا اور وہ تیر ابدلہ لینا نہیں چاہتی۔ عربوں میں یہ ایک رسم تھی کہ جب کوئی شخص اپنی قوم کے دلوں میں جوش پیدا کرنا چاہتا تھا تو اس طرح مادر زاد ننگا ہو کر رونے پیٹنے اور بین کرنے لگتا۔ اس شخص نے بھی جب اس طرح کیا تو دلوں میں ایک جوش پیدا ہو گیا اور پہلے خیالات جاتے رہے اور لوگ لڑائی کے لئے تیار ہو