خطبات محمود (جلد 23) — Page 101
* 1942 101 خطبات محمود گئے۔اسی دوران میں کفار نے اپنے ایک تجربہ کار افسر کو تیار کیا کہ جا کر اندازہ کرے۔مسلمانوں کی تعداد کتنی ہے۔وہ شخص معلوم ہوتا ہے جنگی کاموں سے بخوبی ماہر تھا۔وہ پہلے اس طرف گیا جس طرف باورچی خانہ کا انتظام تھا اور ذبح شدہ اونٹوں کی تعداد دیکھ کر اندازہ کیا کہ مسلمانوں کی تعداد تین ساڑھے تین سو کے درمیان ہو گی اور جا کر کفار سے کہا کہ باقی سب اندازے غلط ہیں۔مسلمانوں کی تعداد تین اور ساڑھے تین سو کے درمیان ہے۔کفار نے کہا کہ بس پھر تو کوئی بات نہیں۔ہم تو انہیں فور آمار لیں گے لیکن اس شخص نے کہا کہ بھائیو! گو مسلمانوں کی تعداد تو تھوڑی ہے مگر میں تمہیں یہی مشورہ دوں گا کہ ان سے لڑائی کا خیال چھوڑ دو۔انہوں نے اس کی وجہ پوچھی تو اس نے کہا کہ میں نے بعض مسلمانوں کو بھی دیکھا ہے مگر میں سچ کہتا ہوں کہ میں نے اونٹوں اور گھوڑوں پر آدمی نہیں موتیں سوار دیکھی ہیں۔2 ان میں سے ہر ایک کے چہرے سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مرنے کے لئے آیا ہے اور کسی کام کے لئے نہیں اور اگر تم نے ان سے لڑائی کی تو یا تو وہ سب کے سب خود مر جائیں گے یا تم کو مار دیں گے اور جو قوم مرنے کے لئے آمادہ ہو چکی ہو۔اس سے لڑنا اچھا نہیں ہو تا مگر کفار میں چونکہ جوش پیدا ہو چکا تھا۔اس کا مشورہ نہ مانا گیا اور انہوں نے لڑنے کا فیصلہ کیا۔چنانچہ لڑائی ہوئی اور مسلمان اسی نیت اور ارادہ سے لڑے کہ ان میں سے کوئی بھی واپس نہ جائے گا۔ان کا یہ ارادہ اس سے ظاہر ہے کہ انہوں نے ایک عرشہ بنایا جس پر رسول کریم صلی الیم کو بٹھا دیا۔دو تیز رفتار اونٹنیاں پاس باندھ دیں اور باہم مشورہ کر کے حضرت ابو بکر کو آپ پر پہرہ دار مقرر کیا کہ اگر جنگ کی حالت خراب ہوئی تو وہ رسول کریم صلی للی ملک کو ساتھ لے کر مدینہ پہنچ جائیں۔انہوں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ! اسلام کی زندگی آپ کے دم سے ہے اگر لڑائی کی حالت خراب ہوئی تو ہم میں سے تو کوئی واپس جائے گا نہیں مگر اسلام کی خاطر آپ کا زندہ رہنا ضروری ہے۔ہمارے مارے جانے سے اسلام کی شکست نہیں ہو سکتی کیونکہ مدینہ میں اسلام کے اور سپاہی بھی موجود ہیں اس لئے ہم نے ابو بکر کو آپ کا پہرہ دار مقرر کیا ہے جن پر ہمیں سب سے زیادہ اعتماد ہے کہ وہ اپنی جان پر کھیل کر بھی آپ کی حفاظت کریں گے۔آپ ان کے عمیر بن وھب (سيرة لابن هشام)