خطبات محمود (جلد 23) — Page 549
* 1942 549 خطبات محمود امور میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو شریک کرلیں تو یقیناً ایک حصہ جماعت کے ذہن میں یہ خیال آنا شروع ہو جائے گا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نَعُوذُ بِالله رسول کریم صلى الظلم کے مقابل کے رسول ہیں۔حقیقت یہی ہے اور اگر غور سے کام لیا جائے تو اس بات کا سمجھنا کوئی مشکل امر نہیں۔لوگ روزانہ اپنی گفتگو میں اس قسم کے الفاظ استعمال کرتے ہیں کہ میرا فلاں بات پر ایمان ہے اور اس قسم کے الفاظ استعمال کرنے والے مسلمان ہی نہیں ہندو اور عیسائی اور دوسرے مذاہب کے بھی لوگ ہوتے ہیں۔مگر ان الفاظ کے نتیجہ میں انہیں مومن نہیں کہا جاسکتا کیونکہ مومن کا لفظ ایک اصطلاح ہے اور یہ اصطلاح اسی مقام پر استعمال کی جاسکتی ہے جس مقام پر استعمال کرنے کا خدا نے حکم دیا ہے۔اسی طرح رسول اگر اس وقت محمد رسول اللہ صلی الیم ہی ہیں۔اس لئے جب خالی رسول کا لفظ استعمال کیا جائے گا تو اس سے مراد محض آنحضرت صلی ظلم ہوں گے اور یہ اصطلاح غلط طور پر مشہور نہیں بلکہ صحیح طور پر مشہور ہے کیونکہ کوئی ایسا رسول اسلام میں نہیں آسکتا جو رسول کریم صلی علیم کی غلامی سے آزاد ہو کر مقام نبوت کو حاصل کر سکے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو اپنے آپ کو ظلمی اور بروزی کہا تو اس کے بھی یہی معنے ہیں کہ آپ رسول کریم صلی علی وکم کے تابع اور امتی نبی ہیں۔چنانچہ جب لوگ اعتراض کرتے ہیں اور کہتے ہیں لا نَبِيَّ بَعْدِی کے ہوتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نبی کس طرح ہو گئے؟ تو ہم یہی کہتے ہیں کہ آپ نے جب رسول کریم صلی لیلی کیم کی رسالت کو منسوخ نہیں کیا تو آپ ان کے بعد کس طرح ہو گئے۔آپ کی رسالت تورسول کریم صلی علیکم کی رسالت کے اندر شامل ہے اور اندر والے کے متعلق ایسی اصطلاحیں رائج کرنا جن سے وہ باہر کی چیز بن جائے کسی صورت میں بھی درست نہیں ہو سکتا۔بے شک جب مسئلے کا سوال آئے گا ہم کہیں گے کہ مسیح موعود خدا کا رسول ہے۔جب لاہور اور قادیان کا مقابلہ ہو گا ہم کہیں گے کہ قادیان خدا کے رسول کا تخت گاہ ہے تمہاری اس کے مقابلہ میں حقیقت ہی کیا ہے۔مگر جب خالی تخت گاہ رسول کے الفاظ استعمال کئے جائیں گے تو اس سے مراد صرف مدینہ منورہ ہو گا اور کوئی شہر نہیں ہو گا۔اور جب خالی بیت اللہ کا لفظ استعمال کیا جائے گا تو اس سے مراد صرف خانہ کعبہ ہو گا مدینہ منورہ یا قادیان یا کسی اور مقام کی مسجد مراد نہیں ہو گی۔یہ