خطبات محمود (جلد 23) — Page 550
* 1942 550 خطبات محمود بالکل ایسی ہی بات ہے جیسے ہماری جماعت میں جب مہدی موعود کے الفاظ استعمال ہوں گے تو اس سے مراد صرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہوں گے ورنہ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خود لکھا ہے آپ سے پہلے بھی کئی مہدی گزر چکے ہیں لیکن جب ہم مہدی موعود کہیں گے تو اس سے مراد صرف حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی ہوں گے اور کوئی مہدی اس سے مراد نہیں ہو گا۔اگر کوئی شخص اس اصول کو مد نظر نہ رکھے اور لوگوں کو دھوکا دینے لگ جائے تو دنیا میں امن قائم نہیں رہ سکتا اور لوگوں کا قدم غلط راستہ پر پڑ سکتا ہے۔پس میں جماعت کے تمام مصنفین وغیرہ کو توجہ دلاتا ہوں کہ اس قسم کے الفاظ کا استعمال کرنا جائز نہیں۔میں یہ نہیں کہتا کہ تم قادیان کے متعلق ”تخت گاہِ رسول“ کے الفاظ استعمال مت کرو۔میں یہ کہتا ہوں کہ جب مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے علاوہ دوسرے شہروں کا ذکر آجائے تو اس کے مقابلہ میں قادیان کو تخت گاہِ رسول ” کہا جا سکتا ہے۔مگر جب شہروں کا عام ذکر ہو جن میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ بھی شامل ہوں۔تب قادیان کے متعلق “ تخت گاہِ رسول” کے الفاظ کا استعمال درست نہیں کیونکہ اس صورت میں تخت گاہ رسول صرف مدینہ منورہ ہو گا جیسے بیت اللہ " کا لفظ ہم ہر مسجد کے لئے بول سکتے ہیں مگر اس صورت میں جب کوئی اشارہ اور قرینہ موجود ہو لیکن جب بغیر قرینہ کے “بیت اللہ ” کا لفظ استعمال کیا گیا ہو تو اس سے مراد صرف بیت اللہ کی مسجد ہو گی اور کوئی مسجد نہیں ہو گی۔پس اس بارہ میں ہمارے لئے احتیاط بہت ضروری ہے۔ہمارا کام صرف یہ نہیں کہ ہم پیغامیوں کا مقابلہ کریں بلکہ ہمارا کام یہ بھی ہے کہ ایسی تحریکیں بھی جماعت میں نہ اٹھنے دیں جن میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام یا آپ کے خلفاء کے متعلق غلو سے کام لیا گیا ہو۔میں نے دیکھا ہے حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں بعض لوگ ایسے تھے جنہوں نے آہستہ آہستہ آپ کو ایک مستقل درجہ دینا شروع کر دیا تھا اور اب بھی اگر سلسلہ کے اخبارات کو گہرے غور سے پڑھا جائے جس طرح میں پڑھا کرتا ہوں تو تھوڑے تھوڑے مہینوں کے بعد اس کی لپک سی پیدا ہو جاتی ہے اور صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ بعض لوگ حضرت خلیفہ اول کو مستقل طور پر کوئی الگ درجہ