خطبات محمود (جلد 23) — Page 525
* 1942 525 خطبات محمود لئے جوش پیدا ہو اور وہ بھی اس جوش سے کام لے کر آگ میں کود جائیں اور اپنی جانوں کو اسلام اور احمدیت کے لئے قربان کر دیں۔اگر ہم اپنی جماعت کے لوگوں کو اس بات کی اجازت دے دیتے کہ وہ باغوں میں آرام سے بیٹھے رہیں تو وہ گرمی میں کام کرنے پر آمادہ نہیں ہو سکتے اور بزدلوں کی طرح پیچھے ہٹ کر بیٹھ جاتے۔مگر اب جماعت کے تمام افراد کو قربانیوں کے تنور کے قریب کھڑا کر دیا گیا ہے تاکہ جب ان سے قربانیوں کا مطالبہ کیا جائے تو وہ اپنی جان کو قربان کرتے ہوئے آگ میں کود جائیں۔چنانچہ جب قربانی کا وقت آئے گا اس وقت یہ سوال نہیں رہے گا کہ کوئی مبلغ کب واپس آئے گا۔اس وقت واپسی کا سوال بالکل عبث ہو گا۔دیکھ لو عیسائیوں نے جب تبلیغ کی تو اسی رنگ میں کی۔تاریخوں کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جب کوئی حواری یا کوئی اور شخص کسی علاقہ میں تبلیغ کے لئے گیا تو پھر یہ نہیں ہوا کہ وہ واپس آگیا ہو بلکہ ہم تاریخوں میں یہی پڑھتے ہیں کہ فلاں مبلغ کو فلاں جگہ پھانسی دے دی گئی اور فلاں مسلغ کو فلاں جگہ قید کر دیا گیا۔ہمارے دوست اس بات پر خوش ہوا کرتے ہیں کہ صاحبزادہ عبد اللطیف صاحب شہید نے سلسلہ کے لئے اپنی جان کو قربان کر دیا حالانکہ ایک عبداللطیف نہیں جماعت کو زندہ کرنے کے لئے سینکڑوں عبد اللطیف درکار ہیں جو مختلف ملکوں میں جائیں اور اپنی اپنی جانیں اسلام اور احمدیت کے لئے قربان کر دیں۔جب تک ہر ملک اور ہر علاقہ میں عبد اللطیف پیدا نہیں ہو جاتے اُس وقت تک احمدیت کا رعب قائم نہیں ہو سکتا۔احمدیت کا رعب اُسی وقت قائم ہو سکتا ہے جب سب لوگوں کو گھروں سے نکال کر ایک میدان میں قربانی کی آگ کے قریب کھڑا کر دیا جائے تاجب پہلی قربانی دینے والے قربانی دیں تو ان کو دیکھ کر دوسرے خود بخود آگ میں کود ناشروع کر دیں اور اسی ماحول کو پیدا کرنے کے لئے میں نے تحریک جدید جاری کی ہے۔میں نے کہا ہے کہ میں نے تحریک جدید جاری کی مگر یہ درست نہیں۔میرے ذہن میں یہ تحریک بالکل نہیں تھی اچانک میرے دل پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ تحریک نازل ہوئی۔پس بغیر اس کے کہ میں کسی قسم کی غلط بیانی کا ارتکاب کروں میں کہہ سکتا ہوں کہ وہ تحریک جدید جو خدا نے جاری کی۔میرے ذہن میں یہ تحریک پہلے نہیں تھی ، میں بالکل خالی الذہن تھا