خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 465 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 465

* 1942 465 خطبات محمود آدمی پشت سے اسے اشارہ کر دیتا ہے جس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ ادھر چلو ، ادھر کا اشارہ وہ اس طرف انگلیاں کر کے کر دیتا ہے اور چلو کا اشارہ وہ ہاتھ کو حرکت دے کر کر دیتا ہے۔اب ہاتھ کو پیچھے کی طرف حرکت دینے کے معنے ہماری زبان میں یہ نہیں ہیں کہ پیچھے چلو مگر اس اشارہ سے وہ سمجھ جاتا ہے کہ پیچھے کی طرف ہاتھ کو حرکت دینے کے معنے یہ ہیں کہ چلو۔اور جس طرف اشارہ کیا گیا ہے اس طرف اشارہ کرنے کے یہ معنے ہیں کہ ادھر چلو۔اگر یہ زبان نہ ہوتی تو دوسرا شخص اخفاء سے کام نہ لے سکتا بلکہ اسے بلا کر لے جانا پڑتا، جس سے دوسرے کے دل میں شبہ پیدا ہو تا کہ اسے نہ معلوم کس غرض کے لئے بلایا گیا ہے۔اسی طرح فوجوں میں یہ زبان کام آتی ہے۔فوجوں میں جھنڈیوں کے اشارہ سے لوگ اپنا مطلب بیان کر دیتے ہیں۔مختلف رنگ کی جھنڈیاں ہوتی ہیں اور مختلف تعداد اس کی حرکتوں کی مقرر ہوتی ہے۔جن سے مختلف مطالب بیان کئے جاتے ہیں یا شیشے پر روشنی ڈال کر اس کی چمک سے اطلاع دے دیتے ہیں، اس چمک میں کوئی الفاظ نہیں ہوتے بلکہ انہوں نے بعض اشارے مقرر کئے ہوئے ہوتے ہیں کہ اتنی بار چمک کے یہ معنے ہیں۔اس رخ کی چمک کے یہ معنے ہیں اور اُس رخ کی چمک کے یہ معنے ہیں۔یہ ایک ضرورت ہے جو جنگ کی حالت میں بہت بڑی اہمیت رکھتی ہے اور اس غرض کے لئے فوجوں کو خاص طور پر ٹریننگ دی جاتی ہے۔یہی تصویری زبان ایک لیکچرار کے بھی کبھی کبھی کام آتی ہے، وہ تقریر کرتا ہے اور زور دار الفاظ اپنی تقریر میں لاتا ہے جس سے سامعین کو اپنے دلی خیالات سے واقف کرنا اس کا مقصود ہوتا ہے۔لیکن کبھی کبھی اس کے دل میں اتنا جوش پیدا ہوتا ہے کہ وہ سمجھتا ہے الفاظ کے ذریعہ میں ان پر اتنا اثر نہیں ڈال سکتا جتنا لفظی زبان کے ساتھ تمثیلی زبان ملا کر اثر ڈال سکتا ہوں۔چنانچہ اس غرض کے لئے وہ کسی وقت اپنے ہاتھ کو زور سے نیچے کی طرف جھٹک دیتا ہے۔اب اس کا تقریر کرتے ہوئے اپنے ہاتھ کو نیچے کی طرف جھٹک دینا بے کار نہیں ہو تا بلکہ اگر اچھا لیکچرار اچھے موقع پر اچھے طریق سے اس تمثیلی زبان کو اپنی لفظی زبان کی تائید میں استعمال کرتا ہے تو سامعین پر اس کا ضرور اثر ہوتا ہے اسی طرح وہ کبھی اپنے ہاتھ کو دائیں طرف جھٹکا دے دیتا ہے، کبھی بائیں طرف جھٹکا دے دیتا ہے اور یہ جھٹکے اس کی لفظی زبان میں زیادہ زور پیدا کر دیتے ہیں۔یہی زبان مذاہب