خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 466 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 466

* 1942 466 خطبات محمود میں بھی استعمال کی جاتی ہے۔مثلاً نماز کو ہی لے لو۔اس میں لفظی زبان کے ساتھ تصویری زبان بھی شامل ہے۔ہماری غرض نماز میں یہ ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور ہم اپنی محبت اور اپنے عشق اور اپنے انکسار اور اپنے عجز کا اظہار کریں۔زبان سے جو الفاظ ہم نکالتے ہیں وہ ان ساری باتوں کو ادا کر رہے ہوتے ہیں۔جب ہم الْحَمدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ - ملِكِ يَوْمِ الدِّینِ کہتے ہیں تو یہ ہمارے اس سے تعلق کا اظہار ہوتا ہے کہ توہی ہمارا رب ہے تو ہی رحمان ہے بغیر مانگے اور طلب کئے تو ہم پر اپنی نعمتیں نازل کرتا ہے، ہماری ضرور تیں تو ہی پوری کرنے والا ہے۔تو جب فیصلہ کرتا ہے تو نہایت سچا اور صحیح ہوتا ہے پھر ہم اس کے حضور اپنے عجز اور انکسار کے اظہار کے لئے إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ 2 کہتے ہیں۔اس سے بڑھ کر عجز کا اور کیا اظہار ہو سکتا ہے کہ ہم کہتے ہیں ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد طلب کرتے ہیں۔پھر اپنی درخواستیں پیش کرنے کے لئے اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ - صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِم 3 سے زیادہ اور کیا الفاظ ہو سکتے ہیں مگر جہاں ہم یہ الفاظ بیان کرتے ہیں وہاں ہم سینہ یا ناف پر ہاتھ بھی باندھتے ہیں جو ایک تصویری زبان ہے اور جس کے معنے یہ ہیں کہ ہم مؤدبانہ طور پر اور ملتجیانہ طور پر تیرے سامنے ایک سوالی کی حیثیت میں کھڑے ہیں۔اسی طرح ہم جب ہاتھ اٹھا کر تکبیر کہتے ہیں تو وہ بھی ایک تصویری زبان ہوتی ہے۔ہم اپنے عمل سے اس وقت ظاہر کر رہے ہوتے ہیں کہ نماز کے علاوہ ہم کسی اور طرف توجہ نہیں کر رہے۔ہم اس وقت بالکل خاموش ہوتے ہیں۔کوئی شخص ہم سے بات کرے تو ہم اس کو جواب نہیں دیتے مگر پھر بھی تصویری زبان میں ہم اپنا ہاتھ اٹھاتے ہیں جس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ اب ہم ساری دنیا سے قطع تعلق کر چکے ہیں، ہم رکوع میں اس کی تسبیح و تمجید کرتے اور اس کی عظمت بیان کرتے ہیں مگر ساتھ ہی تمثیلی زبان میں ہم جھک بھی جاتے ہیں۔ہم سجدے میں جاکر خدا تعالیٰ کی تسبیح کرتے اور اس کی علومشان کا اقرار کرتے ہیں مگر ساتھ ہی تصویری زبان میں اس کے سامنے اپنا سر بھی رکھ دیتے ہیں ہم نہایت ہی لطیف الفاظ میں تشہد میں خدا تعالیٰ سے اپنے تعلق کا اظہار کرتے ہیں مگر ساتھ ہی تمثیلی زبان میں اس کے سامنے گھٹنے ٹیک کر بیٹھ جاتے ہیں۔غرض جو جو اغراض اور مقاصد ہم الفاظ میں بیان کرتے ہیں انہی کو ہم تمثیلی زبان