خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 452 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 452

* 1942 452 خطبات محمود سامان خود دشمن کرے اور اس کے نتیجہ میں صداقت پھیلے تو یہ جبر نہیں کہلا سکتا کیونکہ اس کے پھیلنے کے سامان خود دوسرے نے کئے ہیں۔ہاں اگر ماننے والا جھوٹے طور پر مانتا ہے تو یہ بھی اس کی منافقت ہو گی کیونکہ اسی نے پہلے سامان پیدا کیا اور پھر خود ہی منافقت کے طور پر مان لیا۔پس منافقت بھی اسی کے ذمہ ہو گی اور اخلاص بھی اسی کے ذمہ ہو گا۔بہر حال کبھی کسی نبی نے جبر سے کام نہیں لیا اور دوسروں پر جبر کر کے اسلام نہیں پھیلایا۔ہاں یہ ہو تا رہا ہے کہ دشمنوں کی طرف سے ایسے سامان پیدا کر دیئے جاتے تھے کہ صداقت کو ظاہری شان و شوکت حاصل ہو جاتی تھی اور اس سے بھی بعض لوگ متاثر ہو جاتے تھے مگر ہماری جماعت کو اللہ تعالیٰ نے اس ظاہری شان و شوکت سے بھی محروم رکھا ہے اور فرمایا ہے کہ اس کی ترقی تبلیغ سے ہی ہو گی۔گو جیسا کہ میں نے بیان کیاضروری نہیں کہ ہمیشہ ہی ایسا ہو۔ہو سکتا ہے کہ کسی زمانہ میں دشمن احمدیت کے خلاف تلوار اٹھائے اور خدا تعالیٰ احمدیوں کو بھی حکم دے دے کہ تم بھی تلوار کا مقابلہ تلوار سے کرو کیونکہ اب تم پر مظالم حد سے زیادہ ہو گئے ہیں لیکن بہر حال ہمارے سلسلہ کی ابتدائی ترقی تبلیغ سے ہی ہونی ہے، ہوتی رہی ہے ، ہو رہی ہے اور آئندہ بھی ہو گی۔اس وقت تک ہم جس رنگ میں تبلیغ کرتے رہے ہیں وہ انفرادی تبلیغ کا رنگ ہے۔یہ تبلیغ انفرادی تبلیغ کہلا سکتی ہے، اجتماعی تبلیغ نہیں کہلا سکتی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے زمانہ میں اجتماعی تبلیغ کا رنگ تھا۔دشمن پر ایسے حملے ہوتے تھے کہ وہ مجبور ہو جاتا تھا کہ یا لڑے اور یامان لے۔اشتہار پر اشتہار شائع ہوتے رہتے تھے اور دنیا کو مخالفت کی دعوت دی جاتی تھی اور مجبور کیا جاتا تھا کہ لوگ مقابلہ کریں۔مجھے اچھی طرح یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ انبیاء کو لوگوں نے جو مجنون کہا ہے تو اس کی بھی وجہ ہے۔وہ جس رنگ میں تبلیغ کرتے ہیں اسے دیکھتے ہوئے لوگ ان کو مجنون کہنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ہم اشتہار پہ اشتہار دیتے ہیں ، لوگ مخالفت کرتے ہیں۔جماعت کے لوگ مخالفت پر برا بھی مناتے ہیں، چڑتے بھی ہیں مگر ہم خود کب مخالفوں کو چپ رہنے دیتے ہیں اور اگر وہ چپ ہو جائیں تو ہم اور اشتہار دے دیتے ہیں۔انبیاء کی مثال تو اس بڑھیا کی سی ہے جسے بچے گالیاں دیتے اور دق کیا کرتے تھے۔یہاں تک کہ وہ تنگ آکر ان کو