خطبات محمود (جلد 23) — Page 445
* 1942 445 خطبات محمود میری غرض تو تمہیں ثواب سے محروم رکھنا ہے نہ کہ اور زیادہ ثواب دلانا۔اس لئے میں نے یہی مناسب سمجھا کہ تم کو نماز کے لئے جگادوں تا تم کو ایک نماز کا ہی ثواب ملے سو نمازوں کا ثواب نہ ملے۔تو دیکھو سچی ندامت اور سچی خواہش جن لوگوں کے دلوں میں پیدا ہوتی ہے۔ہمارے خدا نے ان کے لئے بھی اپنے رحم کے سامان پید اکئے ہوئے ہیں۔پس جہاں یہ مضمون ان لوگوں کے لئے ملامت ہے جن کو خدا تعالیٰ ثواب کا موقع عطا فرماتا ہے مگر وہ اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھاتے اور اگر اٹھاتے ہیں تو خدا تعالیٰ پر احسان جتلاتے ہیں اور کہتے ہیں ہم بڑے نمازی ہیں، ہم بڑے روزہ دار ہیں ، ہم بڑے حاجی ہیں بلکہ حج تو ایسی چیز ہے کہ اگر کوئی حج کر آئے تو اپنے نام کے ساتھ خود حاجی لکھنا شروع کر دیتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام ہمیشہ فرمایا کرتے تھے کہ ہم نے یہ کبھی نہیں سنا کہ کوئی شخص نمازیں پڑھے تو اپنے آپ کو نمازی کہنا شروع کر دے مگر جب کوئی حج کر کے آتا ہے تو اپنے آپ کو حاجی کہنا شروع کر دیتا ہے گویا وہ نیکی تو کرتے ہیں مگر اس پر فخر کرتے اور سمجھتے ہیں کہ انہوں نے خدا تعالیٰ پر بہت بڑا احسان کر دیا اور اس کی خدائی انہوں نے بنادی۔ورنہ خدا تو نَعُوذُ بِاللہ بالکل کنگال تھا۔پھر کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو روزے باوجود استطاعت کے نہیں رکھتے ، نمازیں نہیں پڑھتے، اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل نہیں کرتے۔ایسے لوگوں کے لئے بھی ملامت ہی ہے۔مگر وہ لوگ جن کو خدا تعالیٰ نے روزے رکھنے کی توفیق نہیں دی بیماری کی وجہ سے یا سفر کی وجہ سے اور وہ روزوں کو پیچھے ڈالنے پر مجبور ہوئے ہیں ایسے لوگوں کو بھی خدا تعالیٰ نے یو نہی نہیں چھوڑا بلکہ اگر واقع میں ان کے دلوں میں اخلاص پایا جاتا ہے اور وہ سچے اور مخلص مومن ہیں تو وہ بے روز ہو کر بھی روزہ دار ہیں کیونکہ ایسے شخص نے عشق کی وجہ سے اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے تابع کر دیا ہوتا ہے۔جب خدا کہتا ہے اے میرے بندے! تُو روزے نہ رکھ کیونکہ تو بیمار ہے۔تووہ کہتا ہے اے میرے رب! میں نہیں رکھتا اور جب خدا کہتا ہے اے میرے بندے آج تو اچھا ہے، آج روزہ رکھ لے تو وہ خدا کے حکم کے ماتحت روزہ رکھ لیتا ہے۔پس جب وہ روزہ رکھ رہا ہوتا ہے تب بھی روزہ دار ہوتا ہے اور جب روزہ کسی معذوری کی وجہ سے چھوڑتا ہے۔تب بھی روزہ دار ہوتا ہے، نادان دنیا اسے دیکھتی ہے اور کہتی ہے اس نے روزہ نہیں رکھا حالانکہ خدا کے