خطبات محمود (جلد 23) — Page 423
* 1942 423 خطبات محمود بنا ہوتا ہے اور اپنے رب کے ساتھ اس کی ملاقات ہو جاتی ہے مگر یہ بات عاشقانہ رنگ سے حاصل ہوتی ہے۔فلسفیانہ سے نہیں، فلسفیانہ نظر سے جو شخص قرآن کریم کو پڑھتا ہے وہ یہ تو کہہ سکے گا کہ بڑی اچھی کتاب ہے، دلائل خوب دیتی ہے مگر اس کے دل میں کوئی نور پیدا نہیں ہو گا لیکن جو شخص عاشقانہ رنگ میں ایک آیت بھی پڑھے گا وہ آیت اس کے دل کے زنگوں کو کاٹ دے گی اور اس کے دل میں ایسا جذبہ پیدا ہو گا کہ اسے کہیں سے کہیں پہنچا دے گا۔خدا تعالیٰ اپنے بندے سے وہ معاملہ نہیں چاہتا جو دو بادشاہ آپس میں کرتے ہیں بلکہ وہ عاشقانہ رنگ بندے کی طرف سے چاہتا ہے۔خدا تعالیٰ کسی کی مدد کا محتاج نہیں کہ کسی سے کہے آؤ ہم عقلی بناء پر کوئی معاہدہ کر لیں اور خیال کرے کہ اس کے ساتھ معاہدہ میری حکومت کی مضبوطی کا موجب ہو گا بلکہ وہ پیار اور محبت چاہتا ہے اور محبت والے دل کی ہی قدر کرتا ہے۔پس ان دنوں سے فائدہ اسی رنگ میں اٹھانے کی کوشش کرو۔اپنے اندر عاشقانہ کیفیت پیدا کرو اور کور ذوقی کو چھوڑ دو کہ یہ محبت کے مقام سے ہٹاتی ہے اور محبت کے بغیر عبادت میں لذت محسوس نہیں ہوتی اور یہ لذت ہی ہے جو ہر قسم کے مصائب برداشت کرنے کے لئے مومن کو تیار کرتی ہے۔کتنے لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم نے اتنی قربانیاں کیں مگر آخر کیا ملا۔اگر ان کے دل میں عشق ہو تا۔تو یہ الفاظ ان کے منہ سے کبھی نہ نکل سکتے۔کہتے ہیں ایک بزرگ کے پاس ان کا کوئی مرید گیا اور تین دن ان کے پاس رہا، انہوں نے اسے اپنے پاس ٹھہرایا اور اسی کمرہ میں سلایا جہاں خود سوتے تھے ، رات کو وہ بزرگ اٹھے اور نماز پڑھنے لگے اور خوب رو رو کر اور گڑ گڑا کر دعائیں کرنے لگے۔وہ مرید بھی جاگ رہا تھا ان کی اس قدر گریہ وزاری کو دیکھ کر اس نے دل میں کہا کہ انہوں نے اس قدر دعائیں کی ہیں کہ آج تو خدا تعالیٰ کا تخت ہل گیا ہو گا۔عرش کانپ گیا ہو گا اور خدا تعالیٰ کے فرشتے ان دعاؤں کی قبولیت کا پیغام لا رہے ہوں گے مگر خدا تعالیٰ کی قدرت کہ جب وہ دعائیں کر چکے تو اونچی آواز میں جو اس مرید کو بھی سنائی دی۔الہام ہوا کہ بے شک رو تارہ تیری دعا تو قبول نہ ہو گی۔یہ سن کر اس مرید نے دل میں کہا کہ ہم تو یہاں اپنی سنوانے آئے تھے لیکن یہاں تو ان کی اپنی بھی نہیں سنی جاتی۔بہر حال وہ چونکہ مرید تھا اور دل میں اخلاص رکھتا تھا چپ ہو رہا۔دوسری رات