خطبات محمود (جلد 23) — Page 409
* 1942 409 خطبات محمود کے الفاظ استعمال کرنے لگا تھا مگر پھر میں نے لفظ احسان اپنی زبان سے نہیں نکالا کیونکہ دین کے لئے قربانی کرنا ہر مومن کا فرض ہے۔اسی لئے میں نے کہا ہے کہ جماعت ان لوگوں کی قربانیوں کو تسلیم کرنے سے انکار نہیں کر سکتی لیکن بہر حال اس میں کیا شبہ ہے کہ جو کام یہ لوگ کر رہے ہیں۔وہ ساری جماعت کا ہے اور اس لحاظ سے جماعت کے ہر فرد کو اپنی دعاؤں میں ان مبلغین کو یاد رکھنا چاہئے۔اسی طرح اور مبلغ دوسرے مختلف ممالک میں اخلاص اور قربانی سے کام کر رہے ہیں۔صوفی مطیع الرحمان صاحب امریکہ میں کام کر رہے ہیں اور بعض مشکلات میں ہیں۔مولوی مبارک احمد صاحب مشرقی افریقہ میں کام کر رہے ہیں۔مولوی رمضان علی صاحب ساؤتھ امریکہ میں کام کر رہے ہیں۔چوہدری محمد شریف صاحب فلسطین اور مصر میں کام کر رہے ہیں۔حکیم فضل الرحمان صاحب کا ذکر میں پہلے کر چکا ہوں۔ان کے علاوہ مولوی نذیر احمد صاحب مبشر سیالکوٹی آجکل گولڈ کوسٹ میں کام کر رہے ہیں۔یہاں گو جماعتیں پہلے سے قائم ہیں مگر وہ اکیلے کئی ہزار کی جماعت کو سنبھالے ہوئے ہیں پھر ان کی قربانی اس لحاظ سے بھی خصوصیت رکھتی ہے کہ وہ آنریری طور پر کام کر رہے ہیں۔جماعت ان کی کوئی مدد نہیں کرتی وہ بھی سات آٹھ سال سے اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں سے جدا ہیں بلکہ تبلیغ پر جانے کی وجہ سے وہ اپنی بیوی کا رخصتانہ بھی نہیں کرا سکے۔ہمارے دوست بعض دفعہ مختلف لوگوں کے اعتراضات سے ڈر کر اور بعض دفعہ پیغامیوں کے اس اعتراض سے گھبرا کر کہ جماعت احمد یہ قادیان تبلیغ نہیں کرتی، خیال کرنے لگ جاتے ہیں کہ شاید یہ اعتراض درست ہے حالانکہ ہماری جماعت کے مبلغین کی قربانیوں کو اگر دیکھا جائے تو ان کی مثال سوائے قرونِ اولیٰ کے اور کہیں دکھائی نہیں دے سکتی۔پیغامیوں کی تبلیغ تو اس کے مقابلہ میں ایسی ہے جیسے سورج کے مقابلہ میں ذرہ۔میں نے جو مثالیں پیش کی ہیں۔ان کے مقابلہ میں پیغامی کوئی ایک ہی مثال پیش کر کے دکھائیں؟ ان میں کہاں جرآت ہے کہ وہ ہندوستان سے بغیر خرچ کے غیر ممالک میں تبلیغ کے لئے جائیں اور اپنا گزارہ تجارت وغیرہ کے ذریعہ کریں۔اسی طرح ان میں کوئی ایسی مثال نہیں مل سکتی کہ کسی شخص کی نئی نئی