خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 400 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 400

* 1942 400 خطبات محمود کہ ابو ہریرہ بھوکا ہے۔وہ متوکل ہونے کی وجہ سے کسی سے مانگنا نہیں چاہتا۔آپ نے ابو ہریرہ سے کہا ابوہریرہ ادھر آؤ! ہم بھی بھوکے ہیں۔مگر ایک دوست نے دودھ کا ایک پیالہ بطور تحفہ بھیجا ہے۔حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ یہ سن کر میری جان میں جان آئی کہ یہ دودھ مجھے مل جائے گا مگر آپ نے فرمایا کہ ابو ہریرہ جاؤ مسجد میں کوئی اور بھی بھوکا ہو تو اسے بلا لاؤ۔حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ میں گیا تو اصحاب الصفہ میں سے سات اور تھے۔یہ دیکھ کر میر اول تو گھٹنے لگا۔میں نے سوچا کہ میں اتنے دنوں سے بھوکا ہوں ایک پیالہ دودھ کا ہے اور سات اور پینے والے موجود ہیں۔میرے حصہ میں کیا آئے گا۔وہ جب ان کو لے کر آنحضرت کی خدمت میں پہنچے تو آپ نے ان سات میں سے ایک کو پہلے وہ پیالہ دیا۔حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ یہ دیکھ کر مجھے اور بھی فکر ہوا۔اس شخص نے وہ پیالہ لیا اور خوب سیر ہو کر پیا اور پھر پیالہ رکھ دیا مگر آپ نے فرمایا اور پیو اس نے اور پیا اور جب ختم کر چکا تو آپ نے فرمایا اور پیو۔آپ جوں جوں اور پینے پر اصرار کرتے میرا دل گھٹتا جاتا کہ میرے لئے کچھ نہ بچے گا۔اس کے بعد آپ نے دوسرے کو وہ پیالہ دیا اور پھر تیسرے کو۔حتی کہ ان ساتوں نے وہ دودھ پیا اور ان میں ہر ایک کو آنحضرت صلی الم نے اصرار کے ساتھ کہہ کہہ کر خوب پلایا اور آخر میں وہ پیالہ مجھے دیا اور میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ وہ پیالہ اسی طرح بھر ا ہو ا تھا۔جب میں نے پی کر چھوڑا تو آپ نے فرمایا۔ابوہریرہ اور پیو۔چنانچہ میں نے اور پیا۔اور آپ نے فرمایا اور پیو۔میں نے پھر اور پیا۔پھر آپ نے فرمایا اور پیو۔اس پر میں نے کہا یا رَسُولَ اللہ آپ کی جان کی قسم اب تو میری انگلیوں میں سے دودھ باہر نکلنے لگا ہے۔اس پر آپ نے وہ پیالہ مجھ سے لیا اور خود پینے لگے۔شیہ متوکل لوگ تھے۔ان کی روزی کا کوئی سامان نہ تھا مگر خدا تعالیٰ خود سامان کرتا تھا۔لیکن اگر وہ بھوک کی حالت میں مر بھی جاتے تو بھی بڑے بڑے بادشاہوں کی نسبت ان کا مر تبہ بلند ہوتا۔تو لوگ تو کل کی قدر کو نہیں جانتے اور مانگنے چلے جاتے ہیں اور وہ حالت پیدا نہیں ہونے دیتے کہ اللہ تعالیٰ خود ان کے لئے تحریک کرے۔خدا تعالیٰ کے نبی غریب ہوتے ہیں مگر وہ مانگتے کسی سے نہیں۔خداتعالی خود ان کے لئے لوگوں کے دلوں میں تحریک کرتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ يَنْصُرُكَ رِجَالٌ نُوحِي اِلَيْهِمُ ایسے لوگ آپ کی مدد